اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
اَطَاعُوْھُمْ وَعَصَانِی، مَا نَدْرِی عَلَامَ نَقْتُلُ اَنْفُسَنَا ھَا ھُنَا اَیُّھَا النَّاسُ (سیرۃ ابنِ ہشام جلد 2 صفحہ 64)۔ یعنی، رسول اللہ نے ان کی بات مان لی اور میری بات نہیں مانی۔ اے لوگو! ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اپنی جانوں کو یہاں کیوں ہلاک کریں۔ احد کی جنگ میں شکست نے یہ ثابت کیا کہ انہیں لوگوں کی رائے درست تھی، جو مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے لیے کہتے تھے، اور باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد غزوۂ خندق (5ھ) میں اسی رائے کو اختیار کیا گیا اور مدینہ میں رہ کر مقابلہ کی تدبیر کی گئی۔ تاہم تمام بڑے صحابہ اپنے اختلاف رائے کو بھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جنگ میں شدید نقصان اور تکلیف کے باوجود پوری بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ صرف عبداللہ بن ابی الگ ہوا اور اس کی بنا پر رئیس المنافقین کہلایا۔ عبداللہ بن ابی کی رائے اصولیاً درست تھی۔ تجربہ نے بھی اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ مگر صحت رائے کے باوجود اطاعت سے نکلنا اس کے لیے گمراہی اور خدا کی ناراضی کا سبب بن گیا۔ اسلام میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنا مشورہ پیش کرے ۔ لیکن ہر مشورہ دینے والا اگر یہ بھی چاہے کہ اس کے مشورہ پر ضرور عمل کیا جائے تو کبھی کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ مختلف رایوں میں سے کسی ایک ہی رائے کو عملاً اختیار کیا جا سکتا ہے، نہ کہ ہر رائے کو۔ سچے مسلمان وہ ہیں جو مشورہ پیش کرنے کے بعد اپنا مشورہ بھول جائیں اور ذمہ داروں کی طرف سے جو فیصلہ ہو اس کو اس طرح مان لیں جیسے وہی ان کی اپنی رائے تھی۔ "سب سے بڑی قربانی رائے کی قربانی ہے“ کسی شخص کا یہ قول بہت با معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ رائے کی قربانی واحد چیز ہے جس کے اوپر کوئی مضبوط اجتماعیت کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی عمارت صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ کچھ اینٹیں اپنے آپ کو زمین میں دبانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader