اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
بات ہے، جو کامیابی پیغمبر نے نہ ٹکرانے کی پالیسی اختیار کر کے حاصل کر کے اس کو ہم ٹکرانے کے طریقہ اختیار کر کے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بھی ہمارا یقین ہے کہ ہم رسول خدا کے امتی ہیں اور آپ ضرور خدا کے یہاں ہماری شفاعت فرمائیں گے۔ -9- فتح مکہ کے بعد عرب کے قبائل کثرت سے مسلمان ہوئے۔ مگر یہ لوگ زیادہ تر اسلام کا سیاسی غلبہ دیکھ کر مسلمان ہوئے تھے۔ ان کے اندر وہ ذہنی و فکری انقلاب نہیں آیا تھا جو ابتدائی لوگوں میں آیا تھا۔ اسلام کے بعض احکام، خاص طور پر زکوۃ ان کی آزادانہ زندگی کے لیے ناقابل برداشت معلوم ہونے لگی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے چند ماہ پہلے یمن اور نجد کے علاقوں میں ان کے درمیان ایسے لیڈر ابھرے جو اسلام کا ایسا تصور پیش کرتے تھے جس میں زکوٰۃ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ ان لیڈروں، مثلاً اسود اور مسیلمہ نے اپنی بات کو خدا کی بات ثابت کرنے کے لیے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ تا کہ جس الہامی زبان میں زکوٰۃ کو فرض کیا گیا ہے اسی الہامی زبان میں اس کی فرضیت کو ساقط کیا جا سکے۔ اس قسم کی نبوت ان قبائل کی پسند کے عین مطابق ثابت ہوئی جو زکوٰۃ کو اپنے اوپر ایک بوجھ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے جوق در جوق ان جھوٹے مدعیانِ نبوت کا ساتھ دینا شروع کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ان لوگوں کا حوصلہ اور بڑھا اور یہ فتنہ تیزی سے پھیلنے لگا۔ حتیٰ کہ یہ حال ہوا کہ مکہ، مدینہ اور طائف کے سوا تمام عرب میں بیشتر لوگ باغی ہو گئے۔ اسی کے ساتھ یہ خبریں بھی پھیلنے لگیں کہ یہ لوگ منظم ہو کر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری زمانہ میں جو کام کیے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک لشکر تیار کیا اور اس کو حکم دیا کہ وہ رومیوں کے مقابلہ کے لیے شام کی طرف جائے جہاں اس سے پہلے موتہ کے مقام پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader