اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 88
By Maulana Wahiduddin Khan
رومیوں نے اسامہ کے والد حضرت زید کو شہید کیا تھا۔ یہ لشکر روانہ ہو کر ابھی مدینہ کے باہر پہنچا ہی تھا کہ اس کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر ملی اور وہ خلیفہ اول کے حکم کے انتظار میں وہیں ٹھہر گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر نے اس لشکر کو آگے روانہ کرنا چاہا تو بیشتر صحابہ نے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ سارا عرب باغی ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت مدینہ پر حملہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں لشکر کو مدینہ کے دفاع کے لیے یہاں رکھنا چاہیے نہ کہ ایسے نازک موقع پر اس کو دور بھیج دیا جائے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق نے ایسی کسی رائے کو ماننے سے شدت کے ساتھ انکار کر دیا۔ تمام بڑے بڑے صحابہ اسامہ بن زید کی سرداری میں مدینہ کے باہر جمع تھے۔ اس وقت لوگوں کے اندر دو باتیں بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ ایک یہ کہ اتنے نازک موقع پر اسلامی لشکر کا مدینہ سے دور جانا حکمت کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ کہ اسامہ بن زید ایک غلام کے لڑکے تھے اس لیے بہت سے لوگوں کو ان کی سرداری پر انقباض تھا۔ نیز وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اسامہ ابھی صرف سترہ سال کے نوجوان ہیں اور ان کی ماتحتی میں بڑے بڑے صحابہ ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی معمر قریشی کو سردار مقرر کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو۔ عمر فاروق بھی ابتداء اس لشکر میں شامل تھے، وہ لوگوں کا پیغام لے کر حضرت ابو بکر کے پاس روانہ ہوئے۔ حضرت ابوبکر نے پہلی بات سن کر فرمایا: لشکر کی روانگی کے بعد اگر میں مدینہ میں تنہا رہ جاؤں اور درندے مجھ کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں ایک ایسے لشکر کی روانگی کو روک نہیں سکتا جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا ہو۔ دوسرے پیغام کو سن کر آپ نے فرمایا" کیا ان کے دلوں میں ابھی تک جاہلی فخر و تکبر کا اثر باقی ہے۔ یہ کہہ کر آپ اٹھے اور لشکر کو خود رخصت کرنے کے لیے پیدل چل کر لشکر گاہ تک پہنچے۔ اسامہ بن زید کو ان کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا، جب اسامہ اپنی سواری پر چلے تو آپ ان کے ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader