دیباچہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر ہوئے ہیں۔ قرآن کی صراحت کے مطابق، آپ کے مشن اور دوسرے پیغمبروں کے مشن میں اصلاً کوئی فرق نہ تھا، تاہم آپ کی ایک حیثیت مزید تھی۔ اور وہ یہ کہ آپ نبیوں کے خاتم تھے۔ دوسرے لوگ صرف رسول اللہ تھے، اور آپ اللہ کے رسول ہونے کے ساتھ خاتم النبیین بھی تھے (وَلَکِنْ رَسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ) 40:33۔ یہ دنیا چونکہ دار الامتحان ہے اور یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی دی گئی ہے، اس لیے یہاں پیغمبروں پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی گئی کہ وہ لوگوں کو بدلیں ۔ ان پر صرف یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے پیغام کو لوگوں تک واضح طور پر پہنچا دیں : فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِيْن (35: 16)۔ مگر نبیوں کے خاتم کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ عملی انقلاب پیدا کر کے زمین کے بڑے رقبہ میں اپنی ایک امت برپا کرے تا کہ اس کی لائی ہوئی آسمانی کتاب کی مستقل حفاظت کا انتظام ہو سکے۔ اس عالم اسباب میں کتاب کی حفاظت کی کوئی دوسری صورت ممکن نہیں۔ اور اگر کتاب الہی محفوظ نہ ہو تو پیغمبروں کی آمد ختم نہیں ہوسکتی۔ گو یا دوسرے انبیاء صرف پیغمبر دعوت تھے اور آپ پیغمبر دعوت کے ساتھ پیغمبر انقلاب بھی۔ انسان کو اپنے عمل پر پورا اختیار حاصل ہے، مگر اس کو عمل کے انجام پر کوئی اختیار حاصل نہیں۔ یہ ایک نہایت سنگین صورت حال ہے جس سے انسان موجودہ دنیا میں دو چار ہے۔ اسی لیے خدا نے انسان کی رہنمائی کے لیے انتہائی حد تک کامل انتظام کیا ہے تا کہ دنیا کی عدالت میں کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اولاً انسان کو انتہائی درست ساخت پر پیدا کیا گیا اور اس کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز پیوست کردی گئی۔ اس کے بعد اس کو ایک ایسی دنیا میں رکھا گیا جو کامل عدل کی بنیاد پر کھڑی کی گئی ہے، تا کہ انسان جدھر دیکھے ہر طرف اس کو خدا کا پیغام خاموش زبان میں سنائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader