Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

دیباچہ

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

دیتا ہے۔ اسی کے ساتھ مزید خصوصی انتظام یہ کیا گیا کہ ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں خدا کے رسول آئے اور ہر ایک کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حقیقت واقعہ سے باخبر کرتے رہے۔ آخری تدبیر کے طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ خود انسانی زندگی کی صورت میں ایک کامل مثال کھڑی کرے جو تمام انسانوں کے لیے ایک زندہ نمونہ کا کام دیتی رہے۔ مگر حضرت نوح سے لے کر حضرت مسیح تک پیغمبروں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی وجہ سے یہ کامل انسانی نمونہ تاریخ میں قائم نہ ہوسکا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کے وقت اس قسم کے ایک نبی کی بعثت کی دعا کی تھی۔ آپ کی دعا کے ڈھائی ہزار سال بعد پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم، خصوصی خدائی تائید کے ساتھ، اسی منصوبہ کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے۔ آپ نے نہ صرف شخصی زندگی کے اعتبار سے مطلوب انسان کا نمونہ دنیا میں قائم کیا۔ بلکہ اسی کے ساتھ خدا کے منصوبہ کے مطابق ہر قسم کے اجتماعی احوال بھی آپ پر گزرے، اور ہر حال میں آپ نے ربانی ہدایت پر قائم رہ کر بطور نمونہ دکھا دیا کہ کیسا انسان خدا کا مطلوب انسان ہے۔ آپ کے ذریعہ صرف یہی نہیں ہوا کہ خدا پرستی کا انسانی نمونہ دنیا میں قائم ہوا۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ نمونہ بھی قائم ہوا کہ حقیقی خدا پرستی کا طریقہ اختیار کرنے کے بعد کس طرح ایسا ہوتا ہے کہ خدا اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ خدا سے خوف کس طرح دوسرے خوفوں سے آدمی کو نجات دیتا ہے۔ اشتعال انگیز مواقع پر خدا کی خاطر صبر کر لینا کس طرح کامیابی کا زینہ بنتا ہے۔ آخرت کے لیے دنیوی فائدوں کو چھوڑنا کس طرح بالاآخر آدمی کو دنیا بھی دے دیتا ہے اور آخرت بھی۔ منفی نفسیات سے بلند ہو کر کام کرنا کس طرح اس فتح مبین تک پہنچاتا ہے کہ دشمن بھی حامی اور دوست بن کر آپ کے ساتھی بن گئے۔ پیغمبر آخر الزماں سے پہلے جو انبیاء آئے ان کی زندگی مدوّن تاریخ کا جزء نہ بن سکی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خالص علمی اور تاریخی اعتبار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page