Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

استہزا اور گریز

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

استہزا اور گریز آدمی کے سامنے جب ایک ایسی سچائی آتی ہے جس کا توڑ دہ دلائل کی زبان میں نہ کر سکتا ہو تو اکثر وہ دو چیزوں کا سہارا لیتا ہے۔ استہزا اور گریز ۔ استہزا کا مقصد داعی کے بارے میں یہ تاثر دینا ہے کہ وہ اتنا حقیر شخص ہے کہ اس کی بات قابلِ اعتبار ہی نہیں۔ اسی طرح گریز کا طریقہ آدمی اس وقت اختیار کرتا ہے جب کہ اس کے پاس اصل بات کی براہ راست دلیل موجود نہ ہو۔ ایسے موقع پر وہ اِدھر اُدھر کی باتیں زد ور شور سے بول کر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پاس جواب دینے کے لئے بہت کچھ ہے، دلیل کے کے میدان میں وہ خالی نہیں۔ پہلی چیز کی ایک مثال قرآن کی سورہ نمبر ۳۷ میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی وہ دعوت پیش کی جو قرآن کے مطابق تمام پیغمبروں کی مشترک دعوت تھی تو قریش نے کہا "کیا ہم ایک شاعر دیوانہ کے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں" (الصافات (۳۶)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مضبوط دلائل کا قریش کے پاس کوئی جواب نہ تھا اس لئے انھوں نے آپ کو شاعر اور دیوانہ کہا تاکہ آپ کو ناچیز ظاہر کر کے آپ کی بات کو مذاق میں اڑا دیں۔ دوسری چیز کی مثال سورہ نمبر ۳ میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اونٹ کا گوشت اور دودھ استعمال کرتے تھے۔ یہود نے ان چیزوں کو اپنی شریعت میں حرام کر رکھا تھا ۔ چنانچہ یہود نے یہ کہنا شروع کیا کہ محمد اپنے کو ملتِ ابراہیمی کا حامل بتاتے ہیں حالاں کہ وہ ان چیزوں کو کھاتے ہیں جو ملتِ ابراہیمی میں حرام ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ملتِ ابراہیمی پر ہم ہیں نہ کہ محمد اور ان کے ساتھی۔ قرآن میں کہا گیا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی مقدس کتاب تورات لاؤ اور دکھاؤ کہ اس کی کس آیت میں یہ بات لکھی ہوئی ہے (آل عمران (۹۳) اس کے جواب میں یہود نے تو رات کی کوئی آیت پیش نہیں کی ۔ البتہ وہ دوسری دوسری باتیں کہنے لگے۔ مثلاً یہ کہ یہ بات تو بالکل معلوم و مشہور ہے، پھر اس کے لئے تو رات کی کوئی آیت پیش کرنے کی کیا ضرورت ۔ انسان کا حال ہمیشہ یہی رہا ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں اپنے کو خالی پاتا ہے تو وہ استہزا اور گریز کا طریقہ اختیار کرتا ہے وہ آدمی کو نا قابلِ التفات ظاہر کرتا ہے یا غیر متعلق الفاظ بول کر یہ تاثر دیتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ اس کی مثالیں پچھلے دور میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور آج کے دور میں بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page