Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دلیل میں الحاد

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

دلیل میں الحاد قرآن کی سورہ نمبرام کے پانچویں رکوع میں خدا کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو زمین و آسمان میں بکھری ہوئی ہیں ؀ رات ، دن، سورج، چاند، پانی، سبزہ ، وغیرہ ۔ پھر ارشاد ہوا ہے : ان الذین یلحدون فی آیاتنا لا یخفون علینا جو لوگ ہماری نشانیوں میں الحاد کرتے ہیں وہ ہم سے امن یلقی فی النار خیرام یاتی آمنا یوم چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ کیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں ڈالا القیامة اعملوا ما شئتم انه بما تعملون بصیر جانے والا ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کے ساتھ (حم سجدہ ۴۰) آئے گا۔ جو جی چاہے کرو، خدا تمھارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔ الحاد کے معنی ہیں انحراف ۔ بات سے اصل معنی لینے کے بجائے اس کو کسی اور طرف پھیر دینا (قال ابن عباس: الالحاد وضع الکلام علی غیر مواضعه، تفسیر ابن کثیر) خدا کا رسول اپنے پیغام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے زمین و آسمان کی نشانیاں پیش کرتا تو منکرین کہتے کہ یہ نشانیاں تو فلاں فلاں طبعی اسباب کے تحت ظاہر ہو رہی ہیں ، ان کا تمھارے پیغام کی صداقت سے کیا تعلق ۔ ایک واقعہ جس سے حق کی تصدیق نکل رہی تھی اس کو کسی اور طرف پھیر کر اپنے آپ کو حق سے محروم کرلیتے۔ یہی معاملہ وہ دوسرے دلائل کے ساتھ کرتے تھے۔ خدا کا رسول ایک واضح دلیل دیتا جو عقلی طور پر پوری طرح سمجھ میں آنے والی ہو۔ مگر وہ اس کو صحیح رخ سے لینے کے بجائے الٹے رخ پر موڑ دیتے ۔ وہ طرح طرح کی لفظی بحثیں نکال کر یہ ظاہر کرتے کہ یہ دلیل دلیل نہیں ہے۔ اگر وہ دلیل ہوتی تو وہ ضرور اس کو مان لیتے ۔ جب بھی کوئی سچی دعوت اٹھتی ہے، وہ کھلے کھلے دلائل کی بنیاد پر اٹھتی ہے۔ اسی کے ساتھ اللہ اس کی تائید کے لئے اس کے گردو پیش مختلف نشانیاں ظاہر کرتا ہے جو اس کے برحق ہونے کی تصدیق کر رہی ہوں ۔ مگر غافل اور سرکش انسان طرح طرح کی تاویل و توجیہہ نکال کر اپنے کو مطمئن کر لیتا ہے ۔ جس واقعہ میں خدا نے اس کے لئے اقرار کا سامان رکھا تھا اس سے وہ الحاد و انکار کی غذا لینے لگتا ہے۔ وہ علم و عقل کا مدعی بن کر علم و عقل کا خاتمہ کر دیتا ہے ۔ ایسی عجیب ہے وہ محرومی جو کامیابی کے چراغ جلا کر حاصل کی جارہی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page