حق کا انکار کرنے والے
Urdu book, p. 107
By Maulana Wahiduddin Khan
حق کا انکار کرنے والے حق کا انکار کرنے کی وجہ عام طور پر دو ہوتی ہے۔ ظلم اور علو (نمل ۱۴) ظالم سے مراد ہے غیر صحیح۔ یعنی وہ لوگ جو مفاد اور مصلحت کے پجاری ہوں۔ ساد اور صحیح اور غلط کا فرق کے بغیر زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور علو پسند وہ لوگ ہیں جو اپنے اندر کبراور گھمنڈ کی نفسیات لئے ہوئے ہوں۔ ظلم کی پیدائش کی زمین اگر مفاد پرستی ہے تو علو کی پیدائش کی زمین خود پرستی۔ حق کی دعوت جب کھل کر سامنے آتی ہے تو وہ تمام لوگ اس سے متنفر ہو جاتے ہیں جو صبح اور غلط کے گنجھٹ میں پڑے بغیر دنیا سمیٹنے میں لگے ہوئے ہوں اور دل کے اندر کوئی خواہش پیدا ہونے ہی کو اپنے لئے کافی معیار سمجھتے ہوں۔ ایسے لوگوں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ حق کے پیغام کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بنائی ہوئی زندگی کو درہم برہم کر دیا جائے۔ ہاتھ پاؤں اور زبان پر روک، کمانے کے طریقوں میں حرام و حلال کا لحاظ، معاملات میں صحیح اور غلط کی تمیز، لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں انصاف اور بے انصافی کا فرق، یہ چیزیں جو حق کا لازمی تقاضا ہوتی ہیں، ان کو جنحال نظر آتی ہیں۔ وہ اپنی آزاد زندگی پر روک لگانے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اس لئے وہ حق کو قبول نہیں کرتے۔ دوسرا گروہ علو پسند دل کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو حالات کسی اونچی گدی پر پہنچائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کو اپنے ماحول میں عزت اور شہرت کا مقام ملا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے حق کی دعوت آتی ہے تو ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے اس کے حق ہونے کا اقرا ر کر لیا تو ان کی بڑائی کا مقام ان سے چھن جائے گا۔ خاص طور پر وہ لوگ جو مذہب کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے ہوں، وہ سب سے پہلے اس پیچیدگی کا شکار ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہ عوام کو یہ باور کرائے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ جس مذہب کے نمائندے ہیں وہی اصل مذہب ہے۔ ایسی حالت میں اپنے سے باہر کسی حق کو ماننا اپنے کو گدی سے اتارنے کے ہمنی ہوتا ہے اور ملی ہوئی گدی سے اترتا آدمی کے لئے ہمیشہ مشکل ترین چیز رہا ہے۔ وہ دنیا میں اپنے وقار کو بچانے کی خاطر حق کا انکار کر دیتے ہیں، خواہ یہ انکار ان کے آخرت کے وقار کو مشتبہ بنا دے۔ قلم اور علو میں مؤخر الذکر زیادہ شدید قسم کی رکاوٹ ہے۔ سورۂ یوسف میں مصر کی امراۃ عزیز کا قصہ نقل ہوا ہے۔ وہ ایک وقت حضرت یوسف کی شدید مخالفت بن گئی تھی۔ اس کے بعد حضرت یوسف کی براءت کا ایک چھوٹا سا واقعہ اس کے سامنے آیا۔ یعنی خواب کے بارے میں آپ کی تعبیر کا صحیح ہو جانا۔ اس کو سن کر وہ پکار اٹھی : الآن حصحص الحق (اب حق بات ظاہر ہو گئی) دوسری طرف اسی مصر میں فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ نے مسلسل بڑے بڑے معجزے دکھائے۔ مگر وہ آخر وقت تک آپ کی صداقت کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ عزیزہ مصر کی عورت کا معاملہ ظلم یعنی ذاتی مفاد یا ہوس کا معاملہ تھا۔ جب کہ فرعون مصر کا معاملہ علو یعنی کبراور گھمنڈ کا معاملہ تھا۔ جو شخص ذاتی مفاد کی وجہ سے حق سے دور ہو وہ اگر اس کو قبول نہ کرے گا تو اس کا امکان ہے کہ وہ زبان سے اس کا اعتراف کرے۔ مگر جو شخص اپنی برتری کے احساس کی وجہ سے حق سے دور ہو وہ نہ اس کو قبول کرے گا اور نہ اس کا اعتراف کرے گا۔ ایسا شخص اپنی تکبرانہ نفسیات کے تحت بنے ہوئے ذہنی خول میں زندگی گزارتا رہتا ہے موت کے سوا کوئی چیز نہیں جو اس کے خود ساختہ ذہنی خول سے اس کو باہر لانے میں کامیاب ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader