وہ ہماری خوراک ہیں
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ ہماری خوراک ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مصر سے نکالا اور ان کو لے کر صحرائے سینا میں پہنچے۔ یہاں وہ چالیس سال (۱۴۰۰۔ ۱۴۴۰ ق م) تک رہے۔ یہاں کے قیام کے ابتدائی زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم آیا کہ فلسطین اور اس کے آس پاس کی زمین تمہارے لئے لکھ دی گئی ہے۔ تم وہاں داخل ہو جاؤ اور اس کو فتح کر لو۔ (استثنا ۱: ۸) اس وقت حضرت موسیٰ اپنی قوم کے ساتھ دشت فاراں میں خیمہ لگائے ہوئے تھے۔ آپ نے قوم کے بارہ سرداروں کو فلسطین و شام کی طرف بھیجا تاکہ وہ "زمین کنعان کی جاسوسی کریں" یہ علاقہ اس وقت عمالقہ کے قبضہ میں تھا۔ یہ لوگ چالیس دن تک سفر کرتے رہے اور اس کے بعد آکر بتایا کہ وہ لوگ بڑی طاقت والے اور قداور ہیں۔ ہم اپنی نظروں میں ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے (گنتی ب۱۳) یہ سن کر ساری جماعت چلا اٹھی کہ ہم ان سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ انھوں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ تم اور تمھارا خدا جاکر لڑیں۔ ہم تو یہیں رہیں گے (مائدہ ۲۵) اس وقت بنی اسرائیل کی تحقیق کرنے والی جماعت میں سے دو آدمی اٹھے۔ بائبل کی روایات میں ان کا نام یوشع بن نون اور کالب بن یوفقنا بتایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: اگر خدا ہم سے راضی ہے تو ہم کو اس زمین پر لے جائے گا اور یہ زمین جس پر دودھ اور شہد بہہ رہا ہے، ہم کو عنایت کرے گا۔ مگر تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ تم اس زمین کے لوگوں سے ڈرو۔ وہ تو ہماری خوراک ہیں۔ ان کا سایہ ان سے جا چکا ہے، پر خدا وند ہمارے ساتھ ہے (گنتی ب ۱۳) ان دونوں آدمیوں کی بابت قرآن میں جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں: قال رجلان من الذين يخافون انعم الله عليهما کہا دو آدمیوں نے جو کہ ڈرنے والوں میں تھے، جن پر اللہ ادخلوا عليهم الباب فاذا دخلتموه فانكم نے انعام کیا تھا، تم ان پر چڑھائی کر کے شہر کے دروازہ تک غلبون وعلى الله فتوكلوا ان كنتم مومنين چلو۔ جب تم دروازہ میں قدم رکھو گے اسی وقت غالب (مائدہ ۲۴) آجاؤ گے۔ اور اللہ کے اوپر توکل کرو، اگر تم اس پر یقین رکھتے ہو قرآن کے اس بیان سے توکل کی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ تو کل یہ نہیں ہے کہ آدمی کوئی کام نہ کرے، وہ بے کار پڑا رہے اور کہے کہ خدا خود ہی بھیج دے گا۔ تو کل اپنی ذات کے بجائے اللہ پر اعتماد کرنے کا نام ہے۔ توکل یہ ہے کہ آدمی کوشش کو اپنی ذمہ داری قرار دے اور نتیجہ کو اللہ کا حق سمجھے۔ وہ اللہ کی ہدایت کی روشنی میں اپنے لئے صحیح راستہ کا انتخاب کرے اور اس پر پوری طرح جم جائے۔ اس کے بعد جدوجہد کی راہ میں مشکلات و مصائب پیش آئیں تو اس یقین کے ساتھ اس پر جما رہے کہ اللہ ضرور اس کا ساتھ دے گا اور اس کو اس منزل تک پہنچائے گا جو اس کی دنیا و آخرت کے لئے بہتر ہے ۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے اس کے دل سے ہر چیز کا ڈر نکل جاتا ہے۔ اللہ جس کے ایمان کو قبول کر لیتا ہے اس پر اس کی یہ خصوصی عنایت ہوتی ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی حقیقی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اللہ کو پالتا ہے اور اسی کے ساتھ اللہ کی حکمت کو بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader