ایک سنت یہ بھی ہے
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سنت یہ بھی ہے جب کسی قوم میں کوئی پیغمبر آتا ہے اور وہ قوم اس کی بات ماننے پر تیار نہیں ہوتی ، تو خدا کی طرف سے ان کو بعض مشکلوں میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ ان میں قبولیت کا مادہ پیدا ہو۔ " اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے ، پھر (جب انھوں نے نہیں مانا تو) ہم نے ان کو سختی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ ڈھیلے پڑ جائیں۔ (انعام) اس قسم کے بعض واقعات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی پیش آئے ہیں (د مومنون ۔ ۷، ۷) صحیحین میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبوت کے چند سال بعد جب مکہ والوں کی مخالفت اور سرکشی بہت بڑھ گئی تو تو آپ نے دعا فرمائی : اللهم اعنی علیهم بسبع كسبع یوسف خدایا ان کے مقابلہ میں میری مدد یوسف کے سات سالہ قحط جیسے سات برسوں سے کر۔ اللہ نے دعا قبول فرمائی اور ایسا شدید کال پڑا کہ لوگ ہڈیاں اور چمڑا اور مردار تک کھانے پر مجبور ہو گئے۔ اس زمانہ میں یہ حال تھا کہ جب ایک شخص آسمان کی طرف نظر اٹھاتا تو بھوک کی شدت کی وجہ سے اس کو اوپر دھواں ہی دھواں دکھائی دیتا تھا۔ آخر ابو سفیان نے آکر آپ سے کہا کہ آپ تو صلہ رحمی کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ کی قوم بھوکوں مر رہی ہے۔ اللہ سے دعا کیجئے کہ اس مصیبت کو ہم سے دور کر دے۔ قریش کے لوگ عام طور پر کہنے لگے تھے کہ خدایا ہم پر سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ایمان لائیں گے (دخان ۱۲) اللہ نے اپنے پیغمبر کی دعا قبول کی اور قحط کے حالات ختم ہو گئے۔ مگر ان کی سرکشی اس کے بعد بھی جاری رہی۔ یہاں تک کہ بدر کی جنگ کی شکل میں وہ پکڑ لئے گئے (دخان ۱۶) قرآن کی سورہ نمبر ۵۲ میں کہا گیا ہے : بلاشبہ ظالموں کے لئے آخرت سے پہلے بھی عذاب ہے۔ مگر ان میں سے اکثر اس کو نہیں جانتے۔ (طور۔ ۴۷) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ظالمانہ روش اختیار کرتے ہیں ، ان کو آخرت کے رسوا کن عذاب سے پہلے دنیا میں تنبیہی عذاب دئے جاتے ہیں۔ یہ دنیوی عذاب اس لئے ہوتا ہے کہ ان کے ظلم کی ہلکی سی سزا انھیں اسی دنیا میں دی جائے تاکہ وہ اس سے سبق لے کر اپنی اصلاح کر لیں (لیذيقهم بعض الذي عملوا لعلهم يرجعون) مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس قسم کی کوئی دنیوی سزا ان کو ملتی ہے تو فوراً اس کی تاویل کر لیتے ہیں۔ وہ اس کو کسی عام سبب کا نتیجہ قرار دے کر اپنے لئے تسکین حاصل کر لیتے ہیں کہ یہ ان کی ظالمانہ روش کی خدائی سزا نہیں ہے بلکہ اس کے اسباب کچھ اور ہیں۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس لئے یہاں جو بھی خدائی نشانی یا سبق ظاہر کیا جاتا ہے وہ معمولی واقعات کے پردہ میں ظاہر کیا جاتا ہے ، سردہ داری (دوبارہ لوگوں کے لئے فتنے بن جاتی ہے۔ وہ دنیا کو خدا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader