ایمان بالغیب
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان بالغیب درخت کیا ہے۔ قدرت کا ایک عظیم الشان کارخانہ۔ انسانی کارخانے مزدوروں کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ درخت میں کھرب ہا کھرب کی تعداد میں بیکٹیریا رات دن کام کرتے ہیں۔ بے شمار تعداد میں پردار کیڑے اس کی تلقیم (Pollination) کے عمل میں مشغول رہتے ہیں۔ مگر محنت کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ ہمارے کارخانے شور اور دھواں اگستے ہیں۔ پانی اور فضا کو گندہ کرتے ہیں۔ مگر درخت کا کارخانہ اس کے بالکل برعکس زمین کو خاموش حسن عطا کرتا ہے۔ وہ خراب ہوا (کاربن) کو خورد لے کر عمدہ ہوا (آکسیجن) ہماری طرف لوٹا دیتا ہے۔ اس طرح حیرت انگیز اہتمام کے تحت ایک درخت بنتا ہے۔ بے شمار قسم کی ضمنی پیداوار کے علاوہ اس پر خوشنما پھول کھلایا جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر پھل نکلتا ہے۔ ساری کائنات اس کو بڑھانے میں لگ جاتی ہے۔ اس کے اندر کمال کاریگری کے ساتھ غذا کا ذخیرہ جمع کیا جاتا ہے۔ پھر اس کو ایک قیمتی ڈھکن (چھلکے) میں پیک کیا جاتا ہے۔ اس کے اوپر رنگ چھڑکا جاتا ہے۔ خوشبو ڈالی جاتی ہے۔ مزہ پیدا کیا جاتا ہے۔ اور بالا آخر نہایت اعلی درجے کی ڈبہ بند غذائی صورت میں اس کو انسان کے لئے ٹپکا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح بے شمار قسم کے پھل، ترکاریاں، غلے، گوشت، دودھ، شہد وغیرہ کائناتی اہتمام کے ساتھ رات دن انسان کے لئے تیار کئے جا رہے ہیں۔ مگر حضرت مسیح کے حواریوں نے جب یہ کہا کہ ہمارے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتارے تو جواب ملا کہ اگر تمھارے اس قسم کے مطالبہ پر خوان اتارا گیا تو تم سخت ترین آزمائش میں پڑ جاؤ گے۔ کیوں کہ اس کے بعد اگر تم نے ناشکری کی تو تم کو اتنا سخت عذاب دیا جائے گا جو کسی کو بھی نہ دیا گیا ہو (مائدہ (۱۱۵) کیا وجہ ہے کہ عام حالات میں ہر وقت خدا کی طرف سے بے شمار تعداد میں غذا فراہم کی جا رہی ہے۔ مگر انھوں نے ایک بار آسمان سے غذا اتارنے کو کہا تو ان کو اتنا سخت انتباہ دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزانہ جو غذا ئیں اتر رہی ہیں وہ اسباب کے پردے میں اتر رہی ہیں۔ جب کہ حواریوں کا مطالبہ یہ تھا کہ ماسباب کے پردہ کو ہٹا کر برہنہ انداز میں ان کے لئے غذا اتاری جائے۔ اس قسم کا واقعہ امتحان کی اس پوری اسکیم کو ختم کر دیتا ہے جس کے تحت انسان کو اس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ اسی لئے حواریوں کے مطالبہ پر حضرت مسیح نے فرمایا: اتقوا الله ان کنتم مومنین (مائدہ (۱۱۴) اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو یعنی ایمان تو یہ ہے کہ بغیر دیکھے یقین کرو۔ جب تم کو دکھا دیا جائے تو اس کے بعد ایمان کی کیا قیمت ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں بندے کا سارا معاملہ غیب کا معاملہ ہے۔ یہاں اللہ تعالی غیب کو نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader