Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ایمان بالغیب

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

یقین کریں (مریم (۶۱) اللہ کے دین کی نصرت یہی معتبر ہے جو غیب میں رہ کر کی جائے (حدید ۲۵) اس طرح غائبانہ طور پر ایمان کا ثبوت دینے والوں ہی کے لئے خدا کے یہاں بخشش ہے اور عظیم مرتبے اور انعامات ہیں (ملک ۱۲) حقیقت یہ ہے کہ انسان کا سارا امتحان اسی بات کا ہے کہ کون حالت غیب میں مومن بنتا ہے اور کون حالت شہود میں۔ جو لوگ شہود (حقائق کے کھل جانے کے بعد مومن بنیں، ان کے ایمان کی کوئی قیمت اللہ کے نزدیک نہیں (یونس ۹۱) مومن دراصل وہی ہے جو غیب کا پردہ ہٹنے سے پہلے غیب کی باتوں کو مان لیں۔ جو شخص خدا کی نعمتوں میں اپنا حصہ پانا چاہتا ہے اس کو خدا پر اس وقت یقین کرنا ہے جب کہ ابھی وہ غیب میں ہے۔ اس کو اس آخرت کے لئے جینا ہے جس کو اس نے دیکھا نہیں۔ اس کو دنیا کی ان نعمتوں کا اعتراف کرنا ہے جس میں اس کو حصہ نہیں دیا گیا۔ اس کو ان ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے جس کا فائدہ موجودہ زندگی میں نہیں ملتا ساس کو ان داعیانِ حق کا ساتھ دینا ہے جن کے داعیِ حق ہونے کی گواہی دینے کے لئے ابھی فرشتے ظاہر نہیں ہوئے۔ اس کو ایک ایسی چیز کو اپنی منزل بنا کر سفر کرنا ہے جو موجودہ دنیا میں کبھی نہیں آتی۔ اس امتحان کا سب سے نازک پہلو اللہ کے داعی کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا ہے۔ اللہ کا داعی اپنے زمانہ میں ایک ”پکھی ہوئی حقیقت“ ہوتا ہے سالہ دنیابی ہے آمیز دعوت کے اعلان کے لئے جس شخص کا انتخاب کرتا ہے وہ ہمیشہ ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس کے ساتھ دنیوی نعمتیں جمع نہ ہوئی ہوں۔ دنیوی عمتیں جہاں ختم ہو جاتی ہیں وہاں سے حق کو پانے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لئے مخاطبین دعوت کو اس امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے کہ وہ ایک ایسی عظمت کو پہچان لیں جو ظاہری نعمتوں سے خالی ہو کر ان کے سامنے آئی ہے۔ وہ ایک ایسے انسان میں خدا کے ظہور کو دیکھ لیں جو چھپے ہوئے خدا کی تجلیاں لئے ہوئے ہے گرد دکھائی دینے والے انسانوں کی تجلیات سے خالی ہے۔ دنیوی عظمتیں ہمیشہ ایسے لوگوں کے حصہ میں آتی ہیں جو اپنی ساری طاقت دنیا کمانے میں لگا دیتے ہیں۔ جن کے اتفاقی حالات ان کو تاریخی گدیوں میں سے کسی گدی پر پہنچا دیتے ہیں۔ جو مردِ جبہ آوازوں میں آواز ملا کر عوامی قیادت حاصل کر لیتے ہیں۔ جو حکومتی منصب یا سیاسی اقتدار کے مالک بن جاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی چیزی کسی کو بے امیر سچائی سے محرومی کی قیمت پر ملتی ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ اس لطیف نفسیات سے خالی ہوتے ہیں جس کے اندر خدا کا فیضان ہدایت اترے، اس لئے ایسے لوگ کبھی وہ شخص نہیں بنتے جن کو خدا اپنی نمائندگی کے لئے چنے اور ان کے ذریعہ سے اپنے دین کا اعلان کرائے۔ تاریخ کے ہر دور میں پیغمبروں کو جھٹلایا گیا اور یہ جھٹلانے والے ہمیشہ وہ لوگ تھے جو اپنے کو دین خدا وندی کا علم بردار سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے وقت کے ان دینی پیشواؤں کا دامن پکڑ رکھا تھا جو عظمت کی گدیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ نعمتوں والے دین میں خدا کو پا کر مطمئن تھے۔ حالاں کہ خدا جہاں ان کو اپنے سایۂ رحمت میں لینے کے لئے پکار رہا تھا وہ دین وہ تھا جو ظاہری نعمتوں اور رونقوں سے خالی تھا۔ وہ اس یقین میں تھے کہ انھوں نے خدا کا مضبوط دامن پکڑ رکھا ہے۔ حالاں کہ ان کے ہاتھ میں فرضی خوش خیالیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page