ہم کہاں ہیں
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم کہاں ہیں لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان بنی اسرائیل میں سے جنھوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی داؤد و عیسی ابن مریم ذلک بما عصوا و کانوا داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے۔ یہ اس لئے کہ یعتدون ۔ کانوا لا یتناہون عن منکر فعلوہ انھوں نے نافرمانی کی اور حد سے گزر گئے تھے۔ وہ لبئس ما کانوا یفعلون (المائدہ ۷۸-۷۹) آپس میں ایک دوسرے کو برے کام سے روکتے نہ تھے جو وہ کر رہے تھے۔ کیسی بری روش تھی جو انھوں نے اختیار کی۔ یہود کی حیثیت قدیم زمانہ میں وہی تھی جو آج مسلمانوں کی ہے۔ اس اعتبار سے یہ آیت مسلم معاشرہ کے بارے میں خدا کے قانون کو بتا رہی ہے۔ اس کے مطابق مسلم معاشرہ کا حد سے گزرنا یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کو ستائیں اور ایک دوسرے پر زیادتی کرنے لگیں۔ ایسے وقت میں خدا کی طرف سے یہ فرض ہو جاتا ہے کہ جو شخص یہ دیکھے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو اپنے ظلم کا نشانہ بنا رہا ہے وہ فورا اس کو روکنے کے لئے متحرک ہو جائے۔ کسی معاشرہ کے افراد میں اگر یہ روح ختم ہو جائے تو وہ مسلم معاشرہ خدا کی نظر میں ملعون ہے۔ اس پر خدا کی لعنت نازل ہوگی نہ کہ خدا کی رحمت۔ موجودہ مسلم معاشرہ کو دیکھئے تو آج اس کی حالت یہی ہو رہی ہے۔ ہر بستی اور ہر محلہ میں ہر روز ایسے واقعات ہورہے ہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستارہاہے۔ جس شخص کے پاس بھی کوئی پیسہ یا کوئی زور آ گیا ہے اس کا دماغ گھمنڈ کا کارخانہ بنا ہوا ہے۔ کسی مسلمان بھائی سے اگر اس کو معمولی شکایت بھی پہنچ جائے تو اس کو اس وقت تک تسکین نہیں ہوتی جب تک دہ اس مسلمان کو ذلیل نہ کرلے۔ وہ اس کی بربادی کے لئے وہ سب کچھ کرڈالتا ہے جو اس کے بس میں ہے۔ مسلم معاشرہ میں آج ہر جگہ اور ہر وقت یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ مگر کوئی کسی کو روکنے والا نہیں۔ کوئی کسی کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ البتہ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی فوج کی فوج تیار ہوگئی ہے جو مسلمانوں کی مظلومیت پر تقریریں کرے اور بڑھ چڑھ کر اپنا قادتی مضان بیان کرے، مسلمانوں کا قومی مصیبت پر لفظی بیان دینے میں ہر ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader