Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

مومن کی معاشی زندگی

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

مومن کی معاشی زندگی یايهاالذین امنوا اذا نودى للصلوة من يوم الجمعة فاسعوا الى ذكر الله وذروا البيع ذلكم خير لكم ان كنتم تعلمون ه فاذا قضيت الصلوة فانتشروا في الارض وابتغوا من فضل الله واذكروا الله كثيرا لعلكم تفلحون . واذا راوا تجارة او لهوان انفضوا اليها وتركو قائمك قل ما عند الله خير من اللهو ومن التجارة والله خير الرازقين . (جمعہ ۔ رکوع آخر) " اسے ایمان لانے والو! جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ کی یاد کی طرف دوڑ پڑو ، اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ اور اللہ کا رزق تلاش کرو، اور اللہ کو خوب یاد کرو، تاکہ تم کو فلاح حاصل ہو۔ اور جب دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ کہدو کہ وہ تماشا اور تجارت سے زیادہ بہتر ہے ۔ اور اللہ بہترین رازق ہے۔" یہ آیتیں پہلی بار ایک خاص موقع پر ایک خاص معاملے کے بارے میں اتری تھیں مگر ان میں ہمارے لئے دائمی نصیحت ہے ۔ دراصل اس میں مسلمانوں کی معاشی زندگی کا وہ اصول بتایا گیا ہے جس کے مطابق انھیں ہمیشہ زندگی گزارنی چاہئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ (یثرب) پہنچے تو وہاں ایک بار بڑا سخت قحط پڑا۔ مقامی بازار میں غذائی چیزیں نایاب ہوگئیں۔ اس زمانے میں ایک تاجر دحیہ بن خلیفہ اکلی شام جاکر وہاں سے آٹا، گیہوں، زیتون کا تیل وغیرہ لاتا اور مدینہ کے بازار میں فروخت کرتا۔ اس کا معمول تھا کہ جب وہ شہر میں داخل ہوتا تو آگے آگے طبل بجتا ، جو اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ خوراک سے لدا ہوا قافلہ آگیا ہے۔ ایک بار جمعہ کا دن تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ دے رہے تھے کہ عین اسی کے درمیان طبل کی آوازیں آنے لگیں۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑے۔ کیونکہ یہ ڈر تھا کہ اگر شروع میں نہ پہنچے تو سامان فروخت ہو جائے گا۔ اور پھر خریداری کے لئے اگلے جمعہ کا انتظار کرنا پڑیگا۔ جب جانے والے جا چکے تو رسول اللہ نے پوچھا " اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page