مومن کی معاشی زندگی
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس کے اُخروی انعام ہی کو اصل اور سب سے بڑی چیز سمجھتے ہوں۔ یہ تین اصول ہیں جو ہماری معاشی زندگی کو مسلمان بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ اگر یہ تین باتیں ہماری زندگی میں شامل نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خود تو مسلمان ہیں مگر ہماری معاشی زندگی زندگی کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اللہ کے ساتھ جوڑے۔ وہ اللہ کے مشن میں اپنے آپ کو مشغول کرے۔ وہ اللہ کے ساتھ اپنے آپ کو اتنا زیادہ شامل کرے کہ ہر وقت اس کو اسی کی یاد آتی رہے ۔ اسی میں آخرت کی کامیابی ہے جہاں آدمی کو مرنے کے بعد جانا ہے اور مستقل طور پر رہنا ہے۔ اس کے بعد جہاں تک زندگی کے معاشی تقاضوں کا سوال ہے ان کے لئے اجازت ہے کہ آدمی بققدر ضرورت ان میں مشغول ہو۔ مگر معاشی زندگی کو جائز زندگی بنانے کے لئے ان تین شرطوں کا لحاظ ضروری ہے جن کا اوپر ذکر ہوا۔ زندگی اپنی تمام سرگرمیوں کے ساتھ اس بات کا امتحان ہے کہ ہم کس چیز کو اپنا خیر بناتے ہیں ۔ لہو اور تجارت کو یا ذکر اللہ اور اطاعت رسول کو ۔ دنیا میں کچھ چیزیں وہ ہیں جن میں مادی نفع ہے اور اس بنا پر آدمی ان کی طرف دوڑتا ہے۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن میں وقتی تسکین اور ظاہری نمود و نمائش ہے اور اس لئے آدمی ان کی طرف کھینچتا ہے ۔ ان چیزوں میں نفس انسانی کے لئے خواہ کتنی ہی کشش ہو مگر وہ حقیقی خیر نہیں ہیں۔ یہ موت سے پہلے کی مختصر زندگی کے کھیل تماشے ہیں جو موت کے بعد کی مستقل زندگی میں باقی نہیں رہیں گے ۔ مومن وہ ہے جو اللہ کی یاد میں جئے اور اطاعت رسول کو اپنا شیوہ بنائے۔ کیونکہ یہی وہ "خیر" ہے جو موت کے بعد مستقل زندگی میں آدمی کے کام آنے والا ہے۔ اس دنیا میں مومن کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرے ، وہ پوری طرح آخرت کی طرف متوجہ رہے۔ یہی کسی کی کامیابی کا اصل راز ہے ۔ مگر موجو دہ دنیا اس طرح بنائی گئی ہے کہ یہاں آدمی کو بھوک پیاس لگتی ہے ۔ یہاں اس کو مکان اور دوسرے اسباب حیات درکار ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ان دو مختلف تقاضوں کے درمیان توازن کیسے قائم ہو۔ دو متضاد چیزوں میں کیا نسبت تلاش کی جائے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی چیز کو آدمی اپنا مقصد بنائے اور دوسری چیز کو ضرورت ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader