ایمان بڑھتا ہے
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان بڑھتا ہے ومن يقترف حسنة نزد له فيها حسناً اور جو شخص نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس کی (الشورى ۲۳) خوبی بڑھائیں گے۔ نیکی کرنے والے کی خوبی میں اضافہ کرنے کا مطلب کیا ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت کی تشریح میں لکھا ہے کہ نیکی کے ثواب میں یہ ہے کہ نیکی کے بعد نیکی کی توفیق حاصل ہو اور برائی کے بدلہ میں یہ ہے کہ برائی کے بعد آدمی کو اور برائی کا موقع دیا جائے ( قال بعض السلف ان من ثواب الحسنة بعد هاون جزا السيئة السيئة بعدها، تفسير ابن كثیر، الجزء الثالث صفحه ۱۱۳) نیکی کرنا انسان جیسی مخلوق کے لئے ایک شعوری واقعہ ہے۔ آدمی جب ایک نیکی کرتا ہے تو وہ ایک برائی کو ارادی طور پر چھوڑتا ہے اور ایک نیکی کو ارادی طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس طرح ایک حقیقی نیکی کرنے والا آدمی نیکی کرکے اپنے شعور اور ارادہ کو متحرک کرتا ہے۔ وہ اپنی نفسیات کو جھکاتاہے اور اپنی روح کے اندر آمادگی کی فضا پیدا کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نیکی آدمی کو ایک نیا انسان بنا دیتی ہے۔ ہر نیکی کے بعد آدمی مزید اور نیکی کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ نیکی موجودہ دنیا میں ایک عمل ہے اور اسی کے ساتھ مزید عمل کا محرک بھی۔ دنیا میں ایک جمادات ہیں اور دوسرے نباتات۔ پتھر ایک جامد چیز ہے۔ وہ بس ایک حال میں پڑا رہتا ہے۔ اس کے برعکس درخت ایک نوپذیر چیز ہے۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ قرآن میں مومن اور ایمان کی مثال درخت سے دی گئی ہے (ابر اراہیم ۴۴) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا معاملہ پتھر جیسا معاملہ نہیں ہے کہ بس ایک حالت پر پڑا رہے۔ وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اس پر کبھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے کہ ایمان ایک اضافہ پذیر حقیقت ہے۔ یہاں قرآن کے چند حوالے نقل کئے جاتے ہیں : جب قرآن کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ( الانفال ۲) خدا کے لئے قربانی کے مواقع دیکھ کر مومنین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے (آل عمران ۱۷۳) اہل ایمان کے تقویٰ میں اضافہ ہوتا ہے (محمد، ۱) ہدایت پانے والوں کی ہدایت برابر بڑھتی رہتی ہے (مریم ۷۶) ایمان والوں کے خشوع میں اضافہ ہوتا ہے (الاسراء (۱۰۹)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader