ایمان بڑھتا ہے
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
موضوع پر کہنے کے لئے اتنی زیادہ بات ہوگی جو کبھی ختم نہ ہو۔ موجودہ زمانہ میں سائنس دانوں نے کائنات کو دریافت کیا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی دنیا کو دریافت کیا ہے جس کے ایک ایک ذرہ کی تفصیلات اتنی زیادہ ہیں جو کبھی بیان نہ کی جا سکیں۔ پھر جو شخص کائنات کے خالق کو دریافت کرے اس کے پاس تو علم کا ایسا سینڈار ہو نا چاہئے جو سارے انسانی الفاظ ہونے کے بعد بھی ختم نہ ہو۔ جو دنیا کے تمام قلم اور دنیا کی تمام سیاہی کو استعمال کرنے کے بعد بھی لکھنے سے رہ جائے۔ اگر آپ نے خدا کو دریافت نہیں کیا ہے تو آپ کے پاس خدا کے نام سے بس چند الفاظ ہوں گے۔ لا الہ الا اللہ کا فقرہ زبان سے ادا کرنے کے بعد آپ کو ایسا محسوس ہوگا گویا بات ختم ہوگئی۔ اس کے بعد آپ اگر مزید کچھ جانیں گے تو وہ بس اسی فقرہ کی بے سوچی سمجھی تکرار ہوگی۔ لیکن اگر آپ واقعی خدا کو پالیں تو خدا کے بارہ میں آپ کے پاس اتنی زیادہ باتیں ہوں گی جو لکھنے اور ہونے سے کبھی ختم نہ ہوں۔ جن کے بارہ آپ کبھی سیر نہ ہو سکیں۔ خدا کی کوئی انتہا نہیں۔ اس لئے خدا کی معرفت کی بھی کوئی انتہا نہیں ہو سکتی۔ جس طرح خدا لامحدود ہے اسی طرح خدا کی معرفت بھی لامحدود ہے۔ جس آدمی کی معرفت خدا اور بندی لامحدود نہ ہو، اس نے ابھی حقیقی خدا کو نہیں پایا ہے۔ وہ کسی "محدود" میں اٹکا ہوا ہے، وہ ابھی " لامحدود " تک نہیں پہنچا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader