ایمان بڑھتا ہے
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
اہل ایمان کی معرفت بڑھتی رہتی ہے (ط ۱۳) جو لوگ واقعی ایمان کی دولت پائیں ان کا ایمان اسی طرح بڑھتاہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ایمان کو اس کی گہرائیوں کے ساتھ نہ پائیں ان کے لئے ایمان بس ایک جامد چیز ہوتی ہے، وہ بڑھنے اور ترقی کرنے والی چیز نہیں ہوتی۔ قال البيهقي عن عطاء بن يسار ان عبد الله بن عطار بن یسار سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رواحة قال لصاحب له تعالى نومن بربینا بن رواحہ نے اپنے ایک ساتھی سے کہا: آؤ کچھ دیر کے ساعة - فغضب الرجل وقال اوسنا بمومن لئے اپنے رب پر ایمان لائیں۔ ساتھی یہ سن کر غصہ میں آگیا قال بلى ولكنا نذكر الله فنان داد اس نے کہا: کیا ہم مومن نہیں ہیں۔ حضرت ابن رواحہ ایمانًا نے کہا کہ ہاں، ہم مومن ہیں۔ مگر ہم اللہ کی یاد کرتے ہیں تو اس سے ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ مذکورہ آدمی کے نزدیک ایمان کا مطلب یہ تھا کہ توحید کا کلمہ (لا الہ الا اللہ) پڑھ لیا جائے، کلمہ کی ادائیگی کے بعد اس کے نزدیک بات پوری ہو جاتی تھی۔ مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ خدا کو اس کے ان کمالات کے ساتھ پائے ہوتے تھے جس کی کوئی حد وانتہا نہیں۔ پہلے آدمی کے نزدیک اگر کلمہ پڑھ کر بات ختم ہوتی تھی تو حضرت عبداللہ بن رواحہ کے نزدیک اس کے بعد بات شروع ہوتی تھی۔ خدا کا تصور ان کے ذہن میں اس طرح آتا تھا کہ وہ لا محدود کمالات کا خزانہ ہے۔ اس لئے اس کا ذکر بھی ان کے نزدیک ایسی چیز تھی جو لامحدود طور پر جاری رہے۔ وہ خدا میں جینے والے تھے۔ اور جو شخص خدا میں جئے وہ برابر خدا کی یاد کرتا رہے گا، اس کو کبھی یہ احساس نہیں ہوگا کہ وہ اس کی آخری حد پر پہنچ گیا ہے۔ قال عثمان بن عفان رضی الله عنه ، لوطهرت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اگر تمہارے دل قلوبكم ما شبعتم من كلام ربكم پاک ہو جائیں تو اللہ کی بات سے تم کو سیری نہ ہو۔ کسی بات سے سیر ہونے یا نہ ہونے کا تعلق آدمی کے ظرف سے ہوتا ہے۔ چھوٹا گڑھا تھوڑے سے پانی سے بھر جاتا ہے۔ مگر سمندر کو پانی کی بڑی سے بڑی مقدار بھی بھرنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ یہی حال انسان کا ہے۔ اگر آدمی کے اندر کا ظرف یا اس کی سمائی کم ہو تو وہ ذرا سی بات سے بھر جائے گا۔ اور اگر اس کی سمائی بہت زیادہ ہو تو اس کو کبھی سیری حاصل نہیں ہوگی۔ ایک عام آدمی توحید کا مطلب صرف یہ جانتا ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ لیا جائے۔ ”کلمہ توحید‘‘ کا تلفظ کرنے کے بعد اس کو ایسا لگتا ہے کہ بات ختم ہو گئی۔ اس کے بعد اس کے پاس کچھ اور نہیں رہتا جس کو وہ سوچے یا اپنی زبان سے کہے۔ مگر جو شخص توحید کی حقیقت کو پا جائے اس کے پاس توحید کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader