ایک خدا کے سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک خدا کے سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے اور جن لوگوں نے انکار کیا ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا: کیا تم کو میری باتیں سنائی نہیں جاتی تھیں۔ پھر تم نے گھمنڈ کیا اور مجرم بن کر رہ رہے۔ اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ سچ ہے اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ تو تم کہتے کہ ہم نہیں جانتے وہ گھڑی کیا ہے۔ ہم کو تو اس کا بس ایک خیال سا ہے اور ہم کو یقین نہیں ہوتا۔ اور کھل گئیں ان پر برائیاں ان کا مومن کی جو وہ کرتے تھے۔ اور اب ان پر وہ چیز الٹ پڑی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ اور کہا جائے گا کہ آج ہم تم کو اسی طرح بھلا دیتے ہیں جس طرح تم اس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے۔ اور تمھارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تم کو مدد دینے والا نہیں "___ قرآن کی سورہ نمبرہ ہم میں قیامت کا یہ منظر پیش کرنے کے بعد کہا گیا ہے: ذلكم بأنكم اتخذتم آيت الله هزوا وغرتكم یہ اس وجہ سے کہ تم نے اللہ کی باتوں کی ہنسی اڑائی اور تم الحيوة الدنيا فاليوم لا يخرجون منها ولا هم کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا۔ پس آج یہ لوگ يستعتبون (جاثيه ٣٥) نہ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے عذر قبول کیا جائے گا۔ ہر آدمی کسی نہ کسی تازیانبرستے پر جی رہا ہے۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کے پاس اقتدار ہے، کوئی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کے پاس پیسہ ہے، اس کا کوئی کام اٹکا ہوا نہیں رہ سکتا۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ اس کا اپنا حلقہ اور اس کے اپنے اعوان وانصار ہیں جو ہر موقع پر اس کی مدد کے لئے کافی ہیں۔ کسی کو یہ ناز ہے کہ وہ بزرگوں کا دامن تھامے ہوئے ہے، دنیا سے لے کر آخرت تک کہیں اس کا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ کوئی کسی جماعت سے وابستہ ہے اور کوئی کسی ادارہ سے، کوئی عوامی قافلہ میں شریک ہے تو کوئی سرکاری قافلہ میں، غرض ہر ایک اپنے کو کسی نہ کسی سہارے پر کھڑا کئے ہوئے ہے اور اس کے ناز پر جی رہا ہے۔ یہی ناز یا فخرہ دعوت حق سے بے پروائی برتنے کا سب سے بڑا سبب ہوتا ہے۔ اللہ کی باتیں کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آدمی کے سامنے آتی ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ ان دلائل کا کوئی حقیقی جواب اس کے پاس نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ اس کو نہیں مانتا اس کا ناز اس کو جھوٹے بھروسہ کی نفسیات میں مبتلا رکھتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں اس دعوت کو نہ مانوں تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ دلائل کے اعتبار سے خالی ہو کر بھی وہ اپنے جھوٹے سہارے کو پکڑے رہتا ہے۔ مگر جب قیامت آئے گی تو معلوم ہوگا کہ یہ سارے سہارے بالکل بے حقیقت تھے۔ انھوں نے دنیا میں خدا کی نشانیوں کی پرواہ نہ کی تو قیامت کے دن خدا کی ان کا پردہ فاش کرے گا۔ دنیا میں جتنے سہارے اور سینے والے آخرت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader