Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ایک خدا کے سوا تمام سہارے جھوٹے ثابت ہوں گے

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی سوچ ، اس کا اخلاق ، اس کے معاملاتی سب اللہ کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ وہ اپنے اندرونی وجود میں قلبِ سلیم (شعراء (۸۹) اور خارجی سلوک میں قائم بالقسط (نساء ، ۱۳۵) کا مصداق بن جاتا ہے۔ یہی دین اسلام ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کو سکھانے کے لئے قرآن اتارا گیا۔ قرآن کو قلم کے ذریعہ کتاب کی صورت میں لکھوا کر انسان کے حوالے کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اہتمام تھا کہ وہ کسی ادنی تبدیلی کے بغیر اگلی نسلوں تک پہنچ سکے۔ قرآن آج مکمل طور پر محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس کے ماننے والے بھی بے شمار تعداد میں دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ مگر قرآن والی زندگی عملی کہیں نظر نہیں آتی۔ قرآنی امکانیات اسی طرح بند حالت میں پڑے ہوئے ہیں جس طرح چند سو سال پہلے بھاپ اور بجلی کی طاقیں بند پڑی ہوئی تھیں ۔ ایسا کیوں ہے۔ اس سوال کے جواب کو اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا ، جب تک خدا کی سنت امتحان کو سامنے نہ رکھا جائے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں قرآن کو ماننے والے اور قرآن کو نہ ماننے والے دونوں اپنا اپنا امتحان دے رہے ہیں۔ دونوں قسم کے لوگوں کو یکساں طور پر آنا دی حاصل ہے۔ کوئی شخص قرآن کا انکار کر کے گمراہ ہوتا ہے تو اس کو بھی پوری آزادی ہے۔ اور کوئی قرآن کو مان کر عملاً قرآن کے خلاف چلنا چاہے تو اس کے لئے بھی راستہ کھلا ہوا ہے ۔ قرآن کو نہ ماننا کسی کے بچاؤ کے لئے عذر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح قرآن کو مان لینا کسی کو حالت امتحان سے مستثنی نہیں کرتا۔ موجودہ دنیا میں جس طرح قرآن کو ماننے یا نہ ماننے کی آزادی ہے۔ اسی طرح اس کو مان کر اس کی تعلیمات پر چلنے یا نہ چلنے کی آزادی بھی ہر ایک کو ملی ہوئی ہے۔ ایک گروہ قرآن کا انکار کر کے جس طرح اپنی گمراہیوں کے لئے آزاد ہے۔ دوسرے گروہ کو اسی طرح قرآن کا نام لیتے ہوئے قرآن کے خلاف عمل کرنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ مسلم قوم بھی خدا کی عدالت میں جانچ کی ٹھیک اسی سطح پر کھڑی کی گئی ہے جہاں دوسری غیر مسلم قومیں کھڑی ہوئی ہیں : ان الذین آمنوا والذین هادوا والنصاری یوں ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے والصبتين من آمن بالله واليوم الآخر اور نصاری اور صابتین، جو کوئی یقین لایا اللہ پر اور وعمل صالحاً فلهم اجرهم ولا خوف پچھلے دن پر اور کام کیا نیک تو ان کو ہے ان کی مزدوری عليهم ولا هم يحزنون (بقره (۶۲) اپنے رب کے پاس۔ اور نہ ان کو ڈر ہے اور نہ وہ غم کھادیں (ترجمہ شاہ عبدالقادر دہلوی) جب تک اللہ کی سنت باقی ہے، یہ امکان بھی باقی رہے گا کہ کوئی گروہ قرآن دائر اسلام کا نام لے اور عملاً اس طرح رہے گویا قرآن اور اسلام سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ حتی کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آزادی یہاں تک ہے کہ ایک شخص قرآن کے عالم اور مفسر کی حیثیت سے نمایاں ہو۔ دنیا کی زندگی میں وہ دین خداوندی کا چیمپیئن بنے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کی کوئی دینی قیمت نہ ہو۔ وہ آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ دھکیل دیا جائے جنھوں نے قرآن کو سرے سے مانا ہی نہ تھا ، جن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ (۱۹ جنوری ۱۹۷۹ء)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page