توکل ایک دمعے
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں، اس وقت ان کا خدا ان کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے بلکہ ان کی مدد فرمائے۔ دنیا کی زندگی میں کسی کے ساتھ اچھا سلوک ان کے لئے دراصل ایک عملی دعا ہوتی ہے۔ وہ سمجھ کے کو کھللاتے ہیں تاکہ خدا ان کو کھلائے، وہ کمزوروں کو سہارا دیتے ہیں تاکہ خدا ان کو سہارا دے۔ وہ انسانوں کی طرف سے ڈالی ہوئی تکلیفوں کو معاف کرتے ہیں تاکہ خدا ان کی غلطیوں کو معاف کر دے۔ ان لوگوں کو یہ نعمتیں اس لئے ملیں گی کہ انہوں نے صبر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کل کی دنیا کے لئے جینا، دکھائی دینے والے ”جنت اور جہنم“ کو نظر انداز کر کے نہ دکھائی دینے والے جنت و جہنم کے لئے سرگرم ہونا ایک بے حد مشکل کام ہے۔ اس میں ہر وقت آدمی کے صبر کا امتحان ہے۔ اس راہ میں کہیں مٹتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی عزت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے۔ کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاؤں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے۔ کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گم نامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ کہیں الفاظ کا ذخیرہ ہوتے ہوئے اپنی زبان کو بند کر لینا پڑتا ہے۔ کہیں جانتے بوجھتے دوسرے کا بوجھ اپنے سر پر لے لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنے آپ کو ایک ایسے کام میں شریک کرنا پڑتا ہے جس میں کسی قسم کا کوئی کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ غرض جنت کی طرف سفر کا سارا معاملہ صبر و بردداشت کا معاملہ ہے۔ جو اپنے آپ کو دبانے اور کھلنے کے لئے تیار نہ ہو وہ کبھی اس راہ کو طے نہیں کر سکتا: وقال الذين أوتوا العلم ويلكم ثواب الله خير لمن آمن اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملا تھا، خرابی ہو تمھاری۔ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لایا اور نیک عمل کیا۔ وعمل صالحا ولا يلقها إلا الصبرون (قصص (۸۰) اور یہ بات انھیں کے دل میں پڑتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ دنیا کی زندگی دراصل صبر کا امتحان ہے۔ صبر کی ایک قسم وہ ہے جو باہر کی دنیا کے خلاف ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی ماحول کی رکاوٹوں کا خاموش مقابلہ کرتے ہوئے اپنے دینی سفر کو جاری رکھتا ہے۔ گر سب سے بڑا صبر وہ ہے جو خود اپنے خلاف پیش آتا ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آنے کی وجہ سے اپنے کسی بھائی کے خلاف نفرت اور انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، ایسے موقع پر منفی جذبات کی پرورش سے اپنے کو روکنا پڑता ہے۔ کسی کی ترقی اور مقبولیت کو دیکھ کر اس کے خلاف حسد جاگ اٹھتا ہے۔ اس وقت دشمن جیسی بے رحمانہ نظر سے اپنے دل کو ٹولنا پڑتا ہے تاکہ حسد اور رقابت کے بیج کو نکال پھینکا جائے۔ کبھی آدمی ایک شخص کو اچھا سمجھتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا نیاز مندانہ اندازہ ہوتا ہے اور کبھی ایک شخص کو برا سمجھتا ہے حالاں کہ اس کی وجہ صرف اس کا تنقید و احتساب کا مزاج ہوتا ہے، ایسے موقع پر اپنے آپ کو کھینچ کر ایسے مقام پر لے جانا پڑتا ہے جہاں وہ تعریف و تنقید سے بلند ہو کر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کر سکے۔ دوسرے دل کے ساتھ انصاف اور خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص دین دار نہیں بنتا اور انصاف اور خیر خواہی پر قائم ہو تا صبر کے بغیر ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader