تعلقات کی بنیاد
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
تعلقات کی بنیاد ۔ ۔ اور ابراہیم نے کہا: اللہ کے سوا جن بتوں کو تم نے پکڑ رکھا ہے وہ صرف دنیا کے باہمی تعلقات کی وجہ سے ہے۔ پھر قیامت کے دن تم میں سے ایک دوسرے کا مخالف ہوگا اور ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اور تمھارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمھارا مددگار نہ ہوگا۔ (عنكبوت ۲۵) ابراہیم علیہ السلام نے قدیم عراق کے باشندوں کو دعوت دی کہ اللہ کی عبادت کرو، اللہ سے ڈرو اور شرک سے بچو۔ یہ دعوت لوگوں کو اتنی سخت معلوم ہوئی کہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ خدا کے پیغمبر کو مار ڈالیں یا اس کو زندہ جلا دیں۔ قوم کی طرف سے اتنا سخت رد عمل کیوں ظاہر ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ شرک ان کے لیے تعلقات دنیا کی بنیاد ہوا تھا۔ شرک کو چھوڑنا اور پیغمبر کا ساتھ دینا دنیوی تعلقات کو توڑنے کے ہم معنی نظر آتا تھا، سو اپنی دنیا کو بچانے کے لیے انھوں نے طے کیا کہ پیغمبر کی تحریک کو ختم کرڈالیں۔ آدمی ہمیشہ قوم یا گروہ کے ساتھ جیتا ہے۔ جن لوگوں کے درمیان باہمی مواہست ہو جاتی ہے وہ اس انس کی بنا پر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کرتے ہیں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں ۔ ایک کو دوسرے سے نفسیاتی تقویت حاصل ہوتی ہے۔ اس قسم کی اجتماعیت یا گر وہ بندی حقیقت دنیوی محرک کے تحت ہوتی ہے مگر اعتقادی بنیاد یا نظریاتی علامت کے طور پر کچھ چیزیں ان کے درمیان محترم ہو جاتی ہیں۔ کبھی کوئی بت، کبھی کوئی شخصیت، کبھی اور کوئی مادی یا غیر مادی تصور ۔ یہ مرکز محبت جو لوگوں کو جوڑتا ہے، اس کی شدید طور پر حفاظت کی جاتی ہے۔ کیوں کہ لوگوں کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کے ٹوٹتے ہی ان کے دنیوی مفادات کا شیرازہ منتشر ہو جائے گا۔ آدمی جس نظام مودت سے وابستہ ہو اس سے علیحدگی عام حالات میں بھی مشکلات کا باعث ہوتی ہے اور اگر یہ علیحدگی ایک ایسے شخص کا ساتھ دینے کے نتیجہ میں ہو جو مروجہ نظام مودت کا ناقد بنا ہوا ہو تو پھر مشکلات کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ مرکز محبت بنانے کے قابل ذات صرف خدا کی ہے۔ وہی حقیقی طور پر یہ شان رکھتا ہے کہ انسان اس کو اپنا معبود بنائے اور اس کی بنیاد پر اپنے اجتماعی تعلقات کی تنظیم کرے۔ اس کے سوا ہر سہارا جھوٹا ہے۔ کسی بھی دوسرا چیز کو حقیقی طور پر معبودیت کا یہ مقام حاصل نہیں۔ خدا کے سوا آدمی جس کو یہ مقام دے وہ اس کے لیے دھوکا ثابت ہوگا۔ آخرت میں جب حقیقت کھلے گی تو غیر اللہ کی بنیاد پر باہم محبت کرنے والے ایک دوسرے پر لعنت کریں گے اور ایک دوسرے سے دور بھاگیں گے۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے ہم قوم اور اپنے حلقہ والوں کے درمیان بہت با اخلاق دکھائی دیں گے۔ مگر جہاں مودت کا یہ رشتہ نہ ہو وہاں ان سے کسی اخلاق کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ان کی خوش خلقی، شرافت، نیاضی، تعادن اور ایفائے عہد ان لوگوں کے لیے ہیں جو ان کے "معبود بھائی ہوں ۔ جن سے اس قسم کی دوستی اور تعلق نہ ہو، اس کو وہ اخلاق کا تحفہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ ان کی اخلاقیات ان کی مودت دنیا کے نظام کے تابع ہے نہ کہ خدا کے تابع۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader