اللہ کے ذکر سے ان کے دل دہل جاتے ہیں
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کے ذکر سے ان کے دل دہل جاتے ہیں انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ کا نام آئے تو ان کے قلوبهم واذا تلیت عليهم آياته زادتهم ایماناً دل دہل جائیں اور حبیب اللہ کا کلام ان کو سنایا جائے وعلى ربهم يتوكلون (انفال ۲) تو ان کا ایمان زیادہ ہو جائے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں یہ آیت ہجرت کے دوسرے سال جنگ بدر کے بعد اتری ہے ، اس وقت صورت حال یہ تھی کہ بدر کی فتح کے بعد جو مال غنیمت ملا تھا اس کی تقسیم کے سوال پر مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو گیا ۔ یہ مال اسلامی حکومت کا ہے یا لشکریوں کا ۔ اس میں مہاجرین کا زیادہ حصہ ہے یا انصار کا ۔ رسول اللہ کی حفاظت کرنے والوں کو زیادہ ملنا چاہئے یا دشمن کا پیچھا کرنے والوں کو ۔ وغیرہ ۔ اس قسم کی اختلافی بحثیں جاری تھیں کہ یہ آیت اتری۔ جب بھی باہمی معاملات پیش آتے ہیں تو لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایت اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایک شخص معاملہ کو اپنے ذہن سے دیکھتا ہے اور دوسرا اپنے ذہن سے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں میں ٹکراؤ ہو جاتا ہے ۔ جیسے جیسے بات بڑھتی ہے ، مسئلہ کو غیر جانب دارانہ انداز سے دیکھنے کا مزاج ختم ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اولاً اگر چہ صوری اختلاف تھا تو آخری مرحلہ میں وہ ضد ، عصبیت ، نفرت اور انانیت کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ مومن دہ ہے جو شیطان کی طرف سے اس قسم کی فضا پیدا کئے جانے کے باوجود اصلاح حال کے لئے تیار رہے ۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک شخص سے دقتی تاثر کے تحت جھگڑا اٹھتا ہے۔ اس کے بعد جب اس کو خدا کی یاد دلائی جاتی ہے تو اچانک اس کا دل دہل جاتا ہے ۔ وہ شخص جو ایک انسان ،، کے مقابلہ میں اپنے کو قوی محسوس کر کے اس کو دبانے پر تلا ہوا تھا ، خدا کی عظمتوں اور قوتوں کو سوچ کر سہم جاتا ہے ۔ اب اس کا سر جھک جاتا ہے۔ اس کے الفاظ کے ذخیرے ختم ہو جاتے ہیں ۔ وہ اپنے دلائل کو بھولنے لگتا ہے ۔ جو شخص ایک لمحہ پہلے تک اپنے حق پر زور دے رہا تھا ، اب اس کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہ جاتی ہیں ۔ اس سے جب کہا جاتا ہے کہ خدا سے ڈر اور خدا کی زمین میں تکبر نہ بن ، تو اس کو فوراً محسوس ہو جاتا ہے کہ فی الواقع بڑائی صرف ایک اللہ کے لئے ہے۔ اس کے سوا جتنے ہیں سب چھوٹے ہیں ۔ اس کا دل پکار اٹھتا ہے کہ کہنے والے نے صحیح کہا ۔ میرے لئے تواضع کے سوا کوئی دوسرا رویہ درست نہیں ، حق و انصاف پر قائم رہنے میں دنیوی نقصانات کا خطرہ سامنے آتا ہے یا اپنی ساکھ گرتی ہوئی نظر آتی ہے تو اللہ کی مدد کا یقین اس کے اندر نیا عزم پیدا کر دیتا ہے ۔ وہ تمام مصالح کو اس بھروسہ پر نظر انداز کر دیتا ہے کہ اس کا خدا اس کی مدد کرے گا ، اس کا خدا اس کو بے عزت ہونے سے بچائے گا ۔ اللہ کی آیتوں کو سن کر ایمان بڑھ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی آیت جو حکم دے رہی ہے اس میں اس کو زندگی کا راز دکھائی دینے لگتا ہے ۔ ایک بظاہر مصلحت کے خلاف بات خدا کی طرف منسوب ہونے کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader