دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسروں کو کم تولنا اور اپنے لئے پورا تول لینا آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، اگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو اپنے گھییرے میں لے لے گا" (ہود -۸۴) یہ پیغمبرانہ آواز حضرت شعیب علیہ السلام کی تھی جو انھوں نے ساڑھے تین ہزار برس پہلے مدین والوں کو سنائی۔ مدین، قدیم عرب میں بحر احمر کے کنارے ایک شہر تھا۔ حضرت ابراہیم (۱۹۸۰- ۲۱۶۰ ق م) کی بیوی قطورہ کے بطن سے آپ کے ایک صاحبزادے مدین نامی پیدا ہوئے۔ انھیں کی نسل ابتداء یہاں آباد ہوئی اور ان کے نام پر شہر کا نام مدین رکھا گیا۔ انھیں مدین کی نسل سے، حضرت ابراہیم کے تقریباً سو برس بعد، حضرت شعیب پیدا ہوئے۔ اس وقت تک مدین کی قوم میں کافی بگاڑ آگیا تھا۔ اللہ نے حضرت شعیب کو پیغمبری عطا کی اور ان کو مامور کیا کہ حضرت ابراہیم کی اس بگڑی ہوئی اولاد کو حق کا پیغام سنائیں ۔ قوم مدین کی کیا خرابی تھی جس کی وجہ سے ان کے بارے میں کہا گیا کہ تم اپنے آج کے اچھے حال پر خوش مت ہو۔ کیونکہ آئندہ تمھارے لئے شدید عذاب کا اندیشہ ہے۔ وہ قرآن کے بیان کے مطابق یہ تھا کہ وہ ناپ تول پورا نہیں کرتے اور لوگوں کو چیزیں دینے میں کمی کرتے تھے (اعراف۔ ۸۵) اس اخلاقی بیماری کو قرآن میں دوسرے مقام پر ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے "خرابی ہے گھٹانے والوں کے لئے، جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیں تو پورا پورا لیں اور جب ان کو ناپ یا تول کردیں تو کم کردیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ ایک بڑے دن یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں ، اس دن جب کہ سارے لوگ مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے" (المطففین) "اپنے لئے بھر پور لینا اور دوسروں کو دینے میں کمی کرنا" ایک دہ ہے جو دوکان داروں کے یہاں ملتا ہے۔ جو دوکان دار ایسا کرتا ہے کہ اپنے لئے ناپنا اور تولنا ہو تو زیادہ لینے کی کوشش کرے اور دوسروں کو دینا ہو تو چاہے کہ کسی نہ کسی طرح اس میں گھٹا دوں، خواہ ناپنے اور تولنے میں کمی کر کے یا ملاوٹ اور خلاف نمونہ چیز دے کر، وہ خدا کے یہاں ملعون ہے اور اس کی کمائی کمائی حرام کی کمائی ہے۔ اپنے اس دھوکے بازی کے کاروبار سے وہ خواہ کتنا ہی نفع حاصل کر رہا ہو، آخرت کے دن وہ سخت میں ہو گا ۔ تاہم اس ذہنیت کا تعلق صرف دکان داری سے نہیں ہے بلکہ انسانی تعلقات کے تمام پہلوؤں سے ہے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ "جو اہل علم اپنے معاصر فضلار کی تعظیم و توقیر کا حق ادا نہیں کرتے وہ بھی اس آیت کے ذیل میں آجاتے ہیں"۔ اسی پر ان تمام دوسری صورتوں کو قیاس کیا جا سکتا ہے جب کہ آدمی اپنے لئے تو چاہتا ہے کہ اپنے واقعی حق سے بھی زیادہ وصول کرلے اور دوسرے کو اس کے واجبی حق کے بقدر دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ اپنے اوپر تنقید سن کر پھر اٹھے اور خود دوسروں کا احتساب کرے تو چاہے کہ وہ اس کا خوش دلی کے ساتھ استقبال کریں۔ اس کی چیزوں کی پرائی دوسرے کے یہاں نہ ہو تو اس کو گروہی عصبیت قرار دے کر خود وہ دوسرے کی چیز کے ساتھ اسی عصبیت کا معاملہ کرے۔ دوسروں کے سامنے وعظ کہے کہ امتیازی سلوک نہ کرو اور خود اپنے دائرہ میں دوسروں کے ساتھ امتیازی سلوک کو جائز کئے ہوئے ہو۔ اس کے پاس دوسروں کے لئے حقیقی فیاضی کا ایک کلمہ بھی نہ ہو اور دوسرے سے امید رکھے کہ وہ اس کو ساری دنیا کے لئے روشنی کا مینار تسلیم کریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader