اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے اجعلتم سقایة الحاج عمارة المسجد الحرام کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی خدمت كمن آمن بالله والیوم الآخر جاهد فی سبیل کرنے کو اس شخص کے برابر ٹھہرایا ہے جو ایمان لایا اللہ اللہ لا يستون عند الله والله لا يهدى القوم پر اور آخرت کے دن پر اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اللہ الظالمين۔ الذين آمنوا هاجروا وجاهدوا فى کے نزدیک دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ اور اللہ ظالموں سبیل اللہ باموالهم وانفسهم اعظم درجة کو راہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ کہ ایمان لائے اور جنھوں نے عند الله واولئك هم الفائزون يبشرهم گھر چھوڑا اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد ربهم برحمة منه ورضوان وجنات لهم فيها کیا ان کا درجہ اللہ کے یہاں بہت بڑا ہے اور وہی لوگ نعيم مقیم (توبه ۲۱ - ۱۹) کامیاب ہیں۔ ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے اپنی طرف سے رحمت اور رضا مندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی۔ کعبہ، اسلام کے ظہور کے بہت پہلے سے تمام عربوں کے نزدیک مقدس چلا آ رہا تھا۔ صدیوں کی تاریخ نے اس کی عظمتیں لوگوں کے دلوں میں قائم کر دی تھیں۔ اس سے معمولی انتساب بھی ایک قابل تذکرہ چیز سمجھا جاتا تھا۔ کعبہ کی زیارت اتنا مقدس عمل تھا جس کو آدمی فخر کے ساتھ بیان کر سکتا تھا۔ کعبہ کا خادم اور منتظم ہونا ایک ایسا مسئلہ اعزاز تھا کہ جس کو حاصل ہو جائے اس کو وہ قوم کا سردار بنانے کے لئے کافی ہو۔ مکہ کے مشرکین کعبہ کی انھیں پر فخر روایات کے اوپر کھڑے ہوئے تھے۔ کعبہ سے انتساب اور اس کی زیارت و خدمت نے ان کو لوگوں کی نظر میں محترم بنا دیا تھا۔ وہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ اس کے باہر بھی فضل و شرف کا کوئی درجہ ہے جو کسی کو خدا کی طرف سے عطا کیا جائے۔ دوسری طرف اسلام تھا جس کی ابھی کوئی تاریخ نہیں بنی تھی۔ جس کے گرد ابھی تک عظمتوں کی روایات جمع نہیں ہوئی تھیں۔ اس کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ تھی کہ ایک یتیم جو ابھی تک بکریاں چراتا تھا، اپنے ذاتی حوصلوں کے تحت داعی حق بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ اور کچھ لٹے پٹے لوگ اس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ایک، دیکھنے والوں کو قوم کے اصاغر کا وقتی مجمع نظر آتا تھا۔ دوسرا، قوم کے اکابر کا شاندار قافلہ جو عزت و شرف کی ابدی مسندوں پر جلوہ افروز ہو۔ مکہ کے لوگ اپنے آپ کو کعبہ کی عظمتوں کے جلو میں باکمال سمجھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کی دینی حیثیت مسلم ہے۔ ان کی خدا پرستی میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں۔ مگر خدا کے یہاں ایسی دینداری کا کوئی اعتبار نہیں جس کے ساتھ دنیوی عزتیں اور مادی ترقیات وابستہ ہوگئی ہوں۔ جو دین تجارت بن گیا ہو، وہ کسی کی خدا پرستی کو جانچنے کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader