اللہ کے یہاں دونوں برابر نہیں ہو سکتے
Urdu book, p. 154
By Maulana Wahiduddin Khan
انتظام حرم اور خدمت حجاج جیسے نمائشی کام کرکے خدا پرستی کے چیمپیئن بنے ہوئے تھے۔ ان کو خبر نہ تھی کہ عالم الغیب جہاں خدا پرستی کا کریڈٹ دینے کے لئے ان کا انتظار کر رہا ہے وہ دوسرا مقام ہے اور وہ وہی ہے جس کو غیر اہم سمجھ کر انہوں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی خدمت کرنا بجائے خود ثواب کے کام ہیں۔ مگر اس وقت کے تاریخی حالات میں وہ مکہ والوں کے لئے کام سے زیادہ اعزاز بن چکے تھے۔ وہ اس کے ذریعہ بیک وقت دینداری کا شرف حاصل کر رہے تھے اور اسی کے ساتھ عزت و اقبال کی گڈیاں بھی۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والوں کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔ ان کے لئے دین داری عملاً اپنے آپ کو بربادی کے راستہ پر ڈالنے کے ہم معنی تھی اول الذکر کو دین کے نام پر عزت و وجاہ کا تمغہ ملتا تھا۔ ہر قسم کی دنیوی سہولتیں فراہم ہوتی تھیں۔ یہ تسکین حاصل رہتی تھی کہ ہماری دین اور دنیا دونوں محفوظ ہیں جب کہ ثانی الذکر کے لئے دین ایک سرا پا جان جوکھوں کا معاملہ تھا۔ اس میں رعاج کا ساتھ دینے کے بجائے اپنی قوت فیصلہ کو استعمال کرنا تھا، سامنے کے فائدے کو چھوڑ کر غیب کے فائدے کی جانب دوڑنا تھا۔ عافیت کی زندگی کو خیر باد کہہ کر کھلھیکڑ کی زندگی اختیار کرنا تھا۔ ایک کے لئے دین ایک شان دار تجارت تھی دوسرے کے لئے دین سرا پا قربانی۔ ایک گروہ حالات کے رتھ پر سوار تھا۔ دوسرے گروہ کا معاملہ یہ تھا کہ رواجی فکر کے دائرہ سے نکال کر اس نے اپنے آپ کو خدائے وحدہ لاشریک کا مومن بنایا تھا۔ دنیا کے بنے ہوئے نقشہ سے بغاوت کرکے اپنے آپ کو آخرت کے ان دیکھے راستہ پر ڈالا تھا۔ چلتی ہوئی زندگی سے موافقت کرنے کے بجائے ایک ایسی نئی تحریک کا ساتھ دیا تھا جس میں بظاہر کش مکش اور محرومی کے سوا اور کچھ نہیں۔ جرید یہ کہ اس قسم کی جان جوکھم دینداری اختیار کرنے کے بعد بھی وہ وقت کے مذہبی ٹھیکیداروں کی نظر میں بے دین ہی بنے ہوئے تھے۔ اللہ کے یہاں اُس ایمان کا درجہ بہت بڑا ہے جب کہ آدمی کا ایمان اس کے لئے عوتیں اور شوکتیں جمع کرنے کے ہم معنی نہ بن رہا ہو۔ جب ایمان کی راہ اختیار کرنا اس قیمت پر ہو کہ آدمی سے اس کا گھر بار اور عزیزہ آقائے تک چھوٹ جائیں۔ جب اسلام کے لئے اٹھنے میں کچھ ملنا تو در کنار اپنے جان و مال کو اس کی راہ میں قربان کر دینا پڑے۔ ایسے ہی لوگ خدا کے سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے خدا کی رحمتیں اور اس کی رضامندیاں ہیں۔ ان کے لئے ابدی خوشیوں اور راحتوں کی وہ دنیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔ موجودہ دنیا امتحان کا مقام ہے۔ یہاں تھی کو ہمیشہ مشتبہ حالت (انعام ۹) میں سامنے لایا جاتا ہے۔ آدمی کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ پر دہ پوش حق کو بے پردہ حالت میں دیکھ لے۔ جو خدا کو اس کے غیبی لباس میں نہ پاسکے اس نے خدا کو پایا ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader