حقیقی دین داری کیا ہے ؟
Urdu book, p. 155
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقی دین داری کیا ہے ؟ وکل امة جعلنا منسكا ليد كروا اسم الله على ما اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کرنا مقرر کیا تا کہ وہ اللہ کا نام رزقهم من بهيمة الانعام فالهكم اله واحد لیں ان چوپایوں پر جو اس نے ان کو دئے ہیں۔ اللہ ہی تمھارا فله اسلمو وبشر المخبتين الذين اذا ذكر الله ایک اللہ ہے، تم اسی کے ہو کر رہو اور خوش خبری دے دو عاجزی وجلت قلوبهم والصابرين على ما اصابهم والمقيمى کرنے والوں کو۔ وہ لوگ کہ جب اللہ کو یاد کیا جائے تو ان کے الصلوة ومما رزقنهم ينفقون والبدن جعلنها لكم دل ڈر جاتے ہیں اور درہ سہنے والے ہیں جو ان پر پڑے۔ اور من شعائر الله لكم فيها خير فاذ كروا اسم الله عليها نماز قائم رکھنے والے ہیں اور ہمارے دئے میں سے خرچ کرتے ہیں۔ صواف فاذا وجبت جنوبها فكلوا منها واطعموا اور قربانی کے جانور کو ہم نے تمھارے لئے اللہ کی نشانی بنایا ہے۔ القانع والمعتر كذ لك سخرتها لكم لعلكم تشكرون اس میں تمھارا بھلا ہے۔ پس تم ذبح کے وقت ان پر اللہ کا نام لن ينال الله لحومها ولا دما ها ولكن يناله لو جب وہ ذبح ہو جائیں تو تم خود بھی کھاؤ اور بے سوال کو التقوى منكم كذ لك سخرها لكم لتكبروا الله على اور سوال کرنے والے کو کھلاؤ۔ ہم نے ان جانوروں کو تمھارے ماهديكم وبشر المحسنين تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔ اللہ کو ان کا گوشت اور ان کا ( ۳۳ - ۳۷ حج ) خون نہیں پہنچتا۔ اس طرح ہم نے ان جانوروں کو تمھارے بس میں کر دیا ہے تا کہ تم اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ سجھائی اور خوش خبری دے دو نیکی کرنے والوں کو۔ ایک شخص ہے، اس نے قیمت دے کر ایک جانور خریدا اور قربانی کے دن منتر کی طرح کچھ رٹے ہوئے جملوں کو پڑھ کر اس کو ذبح کر لیا۔ گوشت کا کچھ حصہ خود کھایا، کچھ دوسروں کو دے دیا۔ خریداری کے وقت سے لے کر گوشت کھانے تک قربانی کے نام سے جو چیز اس نے جانی وہ بس ایک جانور تھا یا اس کا گوشت خون۔ اس کی روح نے اس کے سوا کسی اور چیز کا تجربہ نہیں کیا۔ دوسرا شخص وہ ہے جس نے فدائیت کے جذبے سے ایک جانور لیا۔ جب وہ اس کو مذبح کی طرف لے چلا تو اس کا دل کہہ رہا تھا : خدایا ! میں جانور کو نہیں خود اپنے آپ کو تیری طرف لے کر آرہا ہوں ، جب اس نے جانور کو مقررہ طریقہ پر ذبح کیا تو اس کی زبان سے نکلا : " خدایا ! میری اپنی جان کا ہدیہ ہے جو میں جانور کی جان کی صورت میں تجھ کو پیش کر رہا ہوں۔ تو اس کو قبول کر لے " جانور کی قربانی کے معاملہ نے اس کو اس قربانی کے معاملہ کو یاد دلایا جو بندے کی طرف سے خالق کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے اور جانور کی قربانی اس کی صرف ایک ظاہری علامت ہے۔ قربانی کے دوران اس کا دل پگھلتا رہا۔ اس کی آنکھیں آنسو بہاتی رہیں۔ قربانی اس کے اندر نرمی پیدا کر کے ہر قسم کے برے جذبات کو نکالتی رہی۔ وہ کبر، عداوت، انتقام اور خود نمائی کے جذبات کو اللہ کے لئے قربان کرتا رہا ۔__________ جو شخص گوشت اور خون کی سطح پر رہا اس نے تو گویا اپنے اللہ کو قربانی کا صرف گوشت اور خون بھیجا اور جو شخص قربانی کے دوران تقویٰ کا تجربہ کرتا رہا اس نے گویا اپنے اللہ کو قربانی کا تقویٰ بھیجا۔ اور تقویٰ ہی وہ چیز ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader