خدا پرستی کیا ہے
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کے لئے جھوٹے سہاروں اور لفظی تاویلوں کی آڑ میں چھپنے کا موقع سرے سے باقی نہ رہے۔ "سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے،" کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے براہ راست اپنے زیر انتظام کائنات میں جو دین قائم کر رکھا ہے وہی دین انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہئے کہ اپنے اختیار و ارادہ کے تحت اسی آفاقی دین پر قائم ہو جائے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کو جان لینا چاہئے کہ معاملہ بالاخر اسی کے یہاں پیش ہونا ہے جو آج تم سے اطاعت وفرماں برداری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ پھر کیا جو خود خدا وسیع تر کائنات میں یہ نظام قائم کئے ہوئے ہے اس کا کوئی جزو دوسرے اجزار سے ٹکرائے بغیر اپنا فریضہ ادا کرے۔ وہی خدا انسان سے اس پر راضی ہو جائے گا کہ وہ آپس میں ٹکرائیں اور دوسرے کی بربادی پر اپنی تعمیر کا خواب دیکھیں، جو خدا بقیہ کائنات میں خاموش طور پر تمام سرگرمیاں انجام دے رہا ہے وہی خدا انسان کے لئے یہ پسند کرے گا کہ وہ لاؤڈ اسپیکر لگا کر چیخے اور فضا کو شور وغل سے بھر دے۔ جو خدا اتنا حکمت پسند ہے کہ شیشم اور چنار کے درخت کو سو سال میں مکمل کرتا ہے وہی خدا انسان کے معاملہ میں اس عجوبہ کو دیکھنا پسند کرے گا کہ وہ نعروں اور تقریروں کے کرتب دکھائیں اور صبح و شام میں تعمیر ترقی کا مینار کھڑا کر دیں۔ خدا کی جس دنیا میں پانی کا دھارا بہنا چاہتا ہے تو زمین اپنے راستے اس کے لئے کھول دیتی ہے۔ اسی دنیا میں خدا انسانوں سے اس بات پر خوش ہو جائے گا کہ وہ دوسرے کا اعتراف نہ کریں اور دوسرے کے فضل و کمال کو ماننے سے انکار کر دیں۔ کائنات کا ایک فرد کہیں غلاظت ڈال دے تو کروڑوں بیکٹیریا وہاں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ غلاظت کے کیمیائی اجنار کو الگ کر کے اس کو دوبارہ کائنات کے صالح اجزار کا حصہ بنا دیں۔ اسی کائنات میں خدا انسان کو اس بات پر انعام دے گا کہ وہ کسی بھائی کی غلطی کو دیکھے تو اس کو وہ اس لئے پکڑلے کہ اس کے ذریعہ اس کو میں کرنا ہے، غلطی کی تلافی یا درستگی سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ قرآن جس نظام آخرت کا لفظی تعارف ہے وہی نظام اللہ تعالی نے انسان کے سوا بقیہ کائنات میں آج بھی قائم کر رکھا ہے۔ یہ خدا کی خدائی کا بہت کمتر اندازہ ہوگا اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ قرآن میں آخرت کی کامیابی اور ناکامی کے جو اصول بتائے گئے ہیں وہ محض ترنم اور خوش الحانی کے لئے ہیں یا کائنات میں اللہ تعالی اپنے پسندیدہ نظام کو قائم کئے ہوئے ہے، اس کے سوا بھی کسی چیز پر وہ انسان سے راضی ہو سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرآن میں وہ بندوں کو عدل پر قائم ہونے کا حکم دے۔ ساری کائنات کو حد درجہ عدل پر چلارہا ہو۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے تو وہ غیر عادلانہ دنیا دوں پر لوگوں کے لئے جنت اور جہنم کا فیصلہ کر دے۔ اللہ نے اپنی کتاب کو نہ تو بطور شاعری کے اتارا ہے اور نہ کائنات کو بطور کھیل کے پیدا کر دیا ہے۔ اللہ سراپا خیر اور عدل ہے اور اس کا فیصلہ جو انسانوں کے لئے ظاہر ہوگا وہ بھی سراپا خیر اور عدل ہوگا۔ اس کے سوا کوئی اور امید کرنا ایک ایسی بے بنیاد خوش گمانی ہے جو زمین و آسمان میں کہیں اپنے لئے جگہ نہیں پاسکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader