برانام دینا
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
برانام دینا يا ايها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں عسى ان يكونوا خيراً منهم ولا نساء کا مذاق اڑائیں، شائد کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور من نساء عسى ان يكن خيراً منهن نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، شائد ولا تلمزوا انفسكم ولا تنابزوا بالالقاب کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ آپس میں ایک دوسرے بئس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن کو عیب لگاؤ، اور نہ ایک دوسرے کو بالقب لم يتب فأولئك هم الظالمون دو۔ ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو (الحجرات (11 شخص توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ ولا تنابزوا بالالقاب کے ذریعہ اللہ تعالی نے کس چیز سے منع فرمایا ہے، اس کے سلسلہ میں ہم تفسیر طبری کے الفاظ نقل کرتے ہیں : ولا تنابزوا بالالقاب) عنى ان يدعي الرجل ان الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا ہے باسم يكرهه او صفة (بئس الاسم الفسوق کہ کسی آدمی کو ایسے نام سے پکارا جائے جس کو وہ بعد الایمان من سخ من المومنین و پسند نہ کرے یا ایسی صفت سے جو اس کو پسند نہ نبر هم بالالقاب وخالف امر الله عز وجل ہو ۔ جو مسلمان کسی شخص کا مذاق اڑائے اور اس فقد استحق اثم الفسق (طبری) کو برا لقب دے اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو وہ فسق کے گناہ کا مستحق ہوگیا۔ ایک شخص سے آپ کو اختلاف ہو جائے تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو اس کے اصل نام سے پکاریں اور اس کی اس صفت پر اظہار خیال کریں جو اس کی معروف صفت ہے، اگر آپ ایسا کریں تو ایسا کرنا آپ کے لیے جائز ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کو ایک نیا نام دیں، مثلاً عبدالوھاب کے بجائے اس کو وہ ہٹا کہیں تو یہ ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ اسی طرح اگر آپ اس کے مسلک کو اس کے ظاہر کیے ہونے لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے کچھ دوسرے الفاظ میں بیان کریں ، مثلاً یہ کہیں کہ یہ کافروں کا ایجنٹ ہے، تو یہ سراسر فاسقانہ حرکت ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader