Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

عقل سے کام نہ لینا

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

السلام الذين يستمعون القول فيتبعون احسنه خوش خبری ہے۔ تو تم میرے بندوں کو خوش خبری اولئك الذين هداهم الله واولئك دے دو، جو بات کو غور سے سنتے ہیں۔ پھر اس هم اولوالالباب کے بہتر پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ (الزمر ۱۷-۱۸) ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ احسن القول کو لو اور اسو القول کو چھوڑ دو۔ کسی قول کا احسن اور اسو داچھا اور برا پہلو اس کے مفہوم میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے الفاظ میں ہوتا ہے۔ کوئی کلام، خواہ وہ کوئی مقدس کلام کیوں نہ ہو، وہ بہرحال انسانی زبان میں ہوتا ہے۔ انسانی زبان کی محدودیت کی بنا پر اس کے ظاہر الفاظ میں اچھا اور برا، دونوں پہلو نکالنے کی گنجائش ہوتی ہے۔ مگر اللہ کا ڈر آدمی کو سفید اور محتاط بنا دیتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرنے والے آدمی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کلام کو نہایت غور کے ساتھ سنتا ہے۔ اس کے بعد وہ کلام کو اس مفہوم میں لیتا ہے جو اس کا اچھا مفہوم ہے۔ وہ کلام کو اس کے برے مفہوم میں نہیں لیتا۔ جو لوگ کسی کلام کو بے پروائی کے ساتھ سنیں اور اس کے بعد اس کا ایک برا مفہوم نکال کر اس کو ادھر ادھر بیان کرنے لگیں وہ شیطان کی پیروی کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے یہاں بری خبر ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ کلام کو پورے دھیان کے ساتھ سنیں اور پھر اس کا اچھا مفہوم نکال کر اس کو لوگوں کے سامنے پیش کریں، وہ حق کی پیروی کرنے والے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے یہاں اچھی خبر ہے اور ان کے لیے بڑا انعام ہے۔ کلام کو برے مفہوم میں لینے والا آدمی بے عقل آدمی ہے اور جو آدمی کلام کو اچھے مفہوم میں لے وہی عقل والا ہے۔ آخرت میں اس کو جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page