Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

یہ فرق کیوں

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ فرق کیوں قرآن میں اہل جنت کو دو بڑے طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک مقربین خاص۔ اور دوسرے عام انعام یافتہ لوگ۔ پھر بتایا گیا ہے کہ مقربین خاص کی تعداد پہلے لوگوں میں زیادہ ہوگی اور بعد کے لوگوں میں کم ہوگی۔ وكنتم ازواجا ثلاثۃ - فاصحاب الميمنة اور تم لوگ (قیامت میں) تین قسم کے ہوجاؤ گے۔ ما اصحاب الميمنة واصحاب المشئمة پھر دائیں والے، کیا خوب ہیں دائیں والے۔ ما اصحاب المشئمة - والسابقون اور بائیں والے، کیسے برے ہیں بائیں والے۔ السابقون - اولئك المقربون - فى جنات نعيم۔ اور آگے والے تو آگے ہی والے ہیں۔ وہ مقرب ثلة من الاولين - وقليل من لوگ ہیں۔ نعمت کے باغوں میں۔ ان کی بڑی الآخرين - (الواقعہ) تعداد اگلوں میں سے ہوگی، اور تھوڑی تعداد پچھلوں میں سے ہوگی۔ اس قرآنی بیان کی تشریح کرتے ہوئے ابن کثیر اپنی تفسیر کی کتاب میں لکھتے ہیں: لاشك ان اول كل امة خير من آخرها اس میں شک نہیں کہ ہر امت کا پہلا گروہ اس فيحتمل ان تعم الآية جميع الامم کل کے بعد کے گروہ سے بہتر ہے۔ اس لیے ہوسکتا امة بحسبها - ولهذا ثبت فى الصحاح ہے کہ یہ آیت حسب حیثیت تمام امتوں کے لیے وغيرها من غير وجه ان رسول الله صلى الله ہو۔ اور صحاح اور دوسری کتب حدیث میں عليه وسلم قال: خير القرون قرنی ایک سے زیادہ طریقوں سے مروی ہے کہ ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے (الجزء الرابع، صفحه ۴۸۴) بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے۔ اس کے بعد جو لوگ آئیں گے اور اس کے بعد جو لوگ آئیں گے۔ پہلے گروہ اور دوسرے گروہ میں اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page