برانام دینا
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
میں دونوں قسم کے انسان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔ کسی آبادی میں جب اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارنے کے لیے اٹھتا ہے تو عملاً یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ اس کے منکر بن جاتے ہیں ۔ یہ گویا انسانیت کی تقیسم ہے جو اللہ کے نمائندے کے ذریعہ عمل میں آتی ہے ۔ وہ شخص جو اپنی فطرت کو زندہ کیے ہوئے تھا اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سچائی کی آواز کو اس طرح پہچان لیتا ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کی آواز کو۔ خدا نے اس کو انسان کی زبان سے پکارا تو اس نے اپنے رب کی آواز کو پہچان لیا اور اس کی طرف دوڑ پڑا۔ حق کی دعوت جب اس کے ذہن سے ٹکرائی تو اس کے اندر اعتراف، تواضع، تقویٰ اور حق شناسی ابھرا۔ اس نے اپنی زندگی کو پوری طرح اللہ کے راستہ پر ڈال دیا۔ دنیوی مفاد، عزت کا سوال، مصلحتوں کے اندیشے، کوئی بھی چیز اس کے لیے اپنے رب کا راستہ اختیار کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جنھوں نے خدا کی دی ہوئی آنکھ اور کان کو اس طرح بگاڑ رکھا تھا کہ خدا کی آواز انتہائی عیاں ہونے کے باوجود، ان کی سمجھ میں نہ آسکی۔ وقتی مفادات، عوامی دباؤ اور شخصی مصالح کو انھوں نے وہ اہمیت دی جو صرف حق کو دی جانی چاہیے۔ انھوں نے دنیا کے تقاضوں کو ترجیح دی اور آخرت کے تقاضوں کو ٹھکرا دیا۔ وہ اپنی ذات میں گم رہے اور خدا کی طرف نہیں لپکے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ اِذَا قَرَأَ اَحَدُكُمْ وَالتَّيْنِ وَالزَّيْتُونِ فَاثیٰ عَلیٰ آخِرِهَا دَأَلَيْسَ اللَّهُ بِاَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ) فَلْيَقُلْ بَلٰي وَاَنَا عَلٰی ذَالِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ۔ جب تم میں سے کوئی شخص سورہ والتین پڑھے اور اس کے آخر تک پہنچے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہے کہ ہاں، اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔ بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی تو فرمایا: سُبْحَانَکَ فَبَلیٰ قرآن آجاتا ہے۔ ایک شخص جب اس کو پڑھتا ہے تو اس کے پڑھنے سے اس کی نفسیات میں بلبل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader