Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

زکوۃ کے بارے میں

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

زکوۃ کے بارے میں قرآن میں زکوۃ کی آٹھ مدوں کا ذکر ہے۔ جن میں سے ایک مد فی سبیل اللہ (التوبۃ) ہے۔ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنا۔ قرآن کا لفظ اگر چہ عام (اللہ کے راستے میں) ہے ۔ تاہم جمہور فقہائے اس مد کو جنگ کے لئے خاص کیا ہے۔ ان کا متفقہ مسلک یہ ہے کہ زکوۃ کی یہ مد ان افراد کے لئے ہے جو ذاتی طور پر بطور خود کسی اسلامی جنگ میں حصہ لیں۔ اور حکومت کی طرف سے ان کی تنخواہ مقرر نہ ہو۔ (جمهور العلماء علی ان المراد به هنا الغزو ۔ وان سہم (سبیل اللہ) يعطی للمتطوعين من الغزاۃ الذين ليس لهم مرتب من الدولة ، فقه السنة، المجلد الاول صفحه ۳۹۳) اگر مسئلہ کی اس صورت کو تسلیم کر لیا جائے تو گویا فی سبیل اللہ کی ہدایت اب عملاً منسوخ ہو چکی ہے۔ کیونکہ مذکورہ بالا طرز پر جنگ میں شریک ہونا صرف قدیم زمانہ میں ممکن تھا۔ اب جدید حالات میں اس قسم کی شرکت کا کوئی امکان نہیں۔ کیونکہ موجودہ زمانہ کی جنگ اتنی زیادہ پیچیدہ اور ٹیکنکل ہوتی ہے کہ صرف باقاعدہ طور پر تربیت یافتہ لوگ ہی اس میں حقیقی حصہ لے سکتے ہیں۔ غیر تربیت یافتہ لوگوں کو جنگ میں حصہ لینے کا موقع دینا موجودہ زمانہ میں خود اپنے ہاتھوں اپنی شکست کا انتظام کرنا ہے۔ بالفاظ دیگر، اب صرف حکومت کے مشاہرہ یاب افراد ہی جنگ میں حصے سکتے ہیں۔ دراصل فی سبیل اللہ ایک عام لفظ ہے۔ اس میں وہ تمام کام شامل ہیں جو اللہ کے راستے میں کئے جائیں۔ خاص طور پر اس سے وہ کام مراد ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔ اسلام میں اصل چیز " حرب " نہیں بلکہ اصل چیز " دعوت " ہے۔ اسلامی عمل اصلاً دعوت سے شروع ہوتا ہے اور حرب صرف اس وقت پیش آتی ہے جب کہ فریق ثانی کی طرف سے اس کا آغاز کر کے داعیان اسلام کو دفاعی مقابلہ کے لئے مجبور کر دیا گیا ہو۔ ومن اهم ما ينفق في سبيل الله فی زماننا فی سبیل اللہ میں خرچ کی سب سے اہم مد موجودہ هذا اعداد الدعاة الى الاسلام زمانہ میں یہ ہے ، اسلام کے داعی تیار کرنا اور وارسالهم الى بلاد الكفار من قبل اسلامی تنظیموں کی طرف سے ان کو غیر مسلمین کے جمعيات منظمة تمدهم بالمال الكافی ملکوں میں بھیجنا جو کافی مال سے ان داعیوں كما يفعله الكفار فی نشر دينهم ۔ کی مدد کریں۔ جس طرح دوسرے مذاہب والے رشید رضا، تفسیر المنار اپنے دین کو پھیلانے کے لئے کرتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page