Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اقامت دین

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

اقامت دین سورہ انعام میں حضرت ابراہیم، اسحاق، یعقوب، نوح، داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، زکریا، عیسیٰ، یحییٰ، الیاس، اسماعیل، الیسع، یونس، لوط علیہم السلام کا ذکر ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ ان تمام پیغمبروں کو ہم نے عالم پر فضیلت دی اور ان کو ہدایت بخشی۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے: اولئك الذين هدى الله فبهدهم اقتداه (الانعام ۹۰) دوسری جگہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہی میثاق نبوت ہے جو حضرت محمد، نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور تمام پیغمبروں سے لیا گیا یہ میثاق اس بات کا تھا کہ لوگوں کے سامنے حقیقت آخرت کو پوری طرح کھول دیا جائے تاکہ کوئی شخص بھی آنے والے نازک مرحلہ حیات سے بے خبر نہ رہے۔ پھر جو کوئی تصدیق کرے وہ اپنی تصدیق کا ابدی انعام پائے اور جو منکر رہا ہے وہ اپنے انکار کی ابدی سزا بھگتے۔ (احزاب ۸ - ۷) اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی مشترک پیغمبرانہ مشن ہے جس کے لیے ہر نبی کو کام کرنا ہے۔ اب اگر گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر نبی کے یہاں کچھ چیزیں مشترک ہیں اور کچھ چیزیں غیر مشترک۔ مثلاً حضرت ابراہیم کا اپنے بیٹے کو ذبح کرنا، حضرت نوح کا کشتی بنانا۔ حضرت موسیٰ کا ید بیضا کا معجزہ دکھانا۔ حضرت سلیمان کا ہوا میں اڑنا۔ حضرت یوسف کا مسائل قحط کو حل کرنا۔ حضرت یحییٰ کا قتل ہو جانا۔ حضرت مسیح کا مردہ کو زندہ کرنا۔ ان میں سے ہر چیز ہر نبی کے یہاں الگ الگ ہے۔ کوئی نبی اس میں ایک دوسرے کے ساتھ مشترک نہیں ہے۔ انھیں غیر مشترک چیزوں میں حکومت کا قیام بھی ہے۔ کیوں کہ وہ بعض پیغمبروں کے یہاں پایا جاتا ہے مگر اکثر کے یہاں نہیں پایا جاتا۔ اب اگر فہم داہیم اقتدہ کا مطلب یہ لیا جائے کہ ایک پیغمبر دوسرے پیغمبروں کی تمام چیزوں کا اتباع کرے تو یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ کسی پیغمبر نے کیا۔ حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بنی کامل ہیں۔ انھوں نے بھی نہیں کیا۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کو ذبح نہیں کیا۔ آپ نے جنوں کو مسخر کر کے ان سے کام نہیں لیا۔ آپ نے ید بیضا کا معجزہ نہیں دکھایا۔ آپ نے مردوں کو زندہ نہیں کیا۔ وغیرہ اسی طرح دوسرے نبیوں میں بیشتر وہ ہیں جنھوں نے جہاد بمعنیٰ جنگ نہیں کیا۔ اور حکومت قائم نہیں کی۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ان آیات میں اتباع سے مراد مشترک امور میں اتباع ہے نہ کہ غیر مشترک امور میں اتباع۔ ہدایت اور میثاق کا تعلق جب تمام نبیوں کے ساتھ یکساں ہے تو لامحالہ ہدایت اور میثاق کا ایسا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page