حکمران کے مقابلہ میں
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمران کے مقابلہ میں ایک صاحب نے کہا: آپ کی تحریروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ ظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کو صحیح نہیں سمجھتے۔ حالاں کہ حدیث میں آیا ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے (افضل الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر، ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی) میں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ مگر حدیث میں جس چیز کو افضل جہاد بتایا گیا ہے وہ عدل وانصاف کی ایک بات کہنا ہے نہ کہ حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلانا۔ ظالم حکمران کے سامنے انصاف کی بات کہنا بلا شبہ ایک بہت بڑی بھلائی ہے۔ مگر کسی قائم شدہ مسلم حکومت کو "ظالم" قرار دے کر اس کو ختم کرنے کی تحریک چلانا سرا سر باطل ہے جس کا شریعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر صحابہ سے لے کر اب تک تمام علما ء کا اجماع رہا ہے۔ سعید بن جبیر تابعی کہتے ہیں۔ میں نے عبداللہ بن عباس رض سے پوچھا۔ کیا میں بادشاہ کو بھلائی کا حکم دوں اور برائی سے رو کوں۔ صحابی نے جواب دیا: اگر تم کو ڈر ہو کہ بادشاہ تم کو قتل کر دے گا تو نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا، انھوں نے پھر یہی جواب دیا۔ میں نے تیسری بار پوچھا ، انھوں نے پھر یہی جواب دیا اور کہا، اگر تم کو ایسا کرنا ہی ہو اور اس کے سوا چارہ نہ ہو تو تنہائی میں اس کو نصیحت کرو (قال سعيد بن جبير قلت لابن عباس آمر السلطان بالمعروف وانهاه عن المنكر قال ان خفت ان يقتلك فلا - ثم عدت فقال لى مثل ذلك۔ ثم عدت فقال لى مثل ذلك، وقال ان كنت لا بد فاعلا ففيما بينك وبينه، جامع العلوم والحکم) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمران کی برائی کے سلسلے میں ہماری حدود کیا ہیں۔ سب سے ضرور سی بات یہ ہے کہ اس کو قتل وقتال اور ایک دوسرے کو مٹانے کے مرحلہ تک نہ جانے دیا جائے۔ کوئی دائی مسلم حکمراں کو فنا کرنے کا منصوبہ بنائے یا مسلم حکمراں داعیوں کی جماعت کو فنا کرنا چاہے، دونوں حالتوں میں مسلمانوں میں باہمی قتل و خون کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی بھی ایسی تحریک جو لوگوں کو باہمی قتل وخون تک پہنچائے سراسر باطل ہے۔ ہر مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی جان اور مال اور آبرو حرام ہے اور کسی بھی حال میں کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ ان کو اپنے لئے جائز کر لے۔ اس لئے مسلم حکمران کی اصلاح کا کام لازمی طور پر صرف کہنے یا اعلان کرنے کی حد تک محدود رہنا چاہئے ۔ اور اس کا بھی زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ کہا جائے تنہائی میں کہا جائے ۔ یعنی مصلح اور حکمران دونوں تنہائی میں بیٹھیں اور مصلح خیر خواہی اور دلسوزی کے انداز میں اس کی برائی پر اس کو نصیحت کرے ۔ مذکورہ بزرگ نے اس کے بعد اپنے نقطہ نظر کی نفی میں دوسری مشہور حدیث کا حوالہ دیا جو مسلم نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader