اقامت دین
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
مفہوم لینا پڑے گا جو تمام نبیوں کے درمیان مشترک ہو، جو تمام پیغمبروں پر یکساں طور پر صادق آتا ہو نہ کہ کسی ایک پیغمبر پر۔ اس اصول کی روشنی میں جب نبوت اور کارِ نبوت کا مشترک پہلو تلاش کیا جائے تو وہ ایک ہی نکلتا ہے۔ اعلانِ آخرت، ایک ایک فرد پر یہ کوشش کرنا کہ وہ دنیا میں ربانی بن کر رہے۔ ورنہ آخرت میں اس کو ابدی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہی ایک بات ہے جو تمام نبیوں کے درمیان مشترک ہے۔ اب اگر آدمی اس ایک بات کو اپنی زندگی میں بخوبی طور پر پکڑے اور دوسروں کو اس کی طرف بلائے تو یہ اقامتِ دین ہے اور اگر وہ اس ایک بات کے سوا کسی اور بات کو آشوب بنا کر اس پر تحریک چلانے لگے تو یہ تفرقہ فی الدین (الشوری ۱۳) اس "مشترک دین" کے سوا جو چیزیں پیغمبروں کی زندگی میں ایک دوسرے سے مختلف ملتی ہیں وہ اضافی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ حقیقی۔ یعنی وہ دوسرے تقاضوں کے تحت کسی پیغمبر کی زندگی میں شامل ہوتی ہیں نہ کہ اس کے اصلی مشن کے تحت۔ حکومت والے پہلو کے بارہ میں اگر یہ کہا جائے کہ تمام نبیوں کا مقصد حکومتِ الہیہ کا قائم کرنا تھا۔ البتہ کچھ انبیاء کوشش کے درجہ میں رہ گئے اور کچھ آخری کامیابی کے درجہ تک پہنچے۔ تو یہ بات واقعہ کے مطابق نہ ہوگی۔ مثال کے طور پر حضرت موسیٰ کو لیجئے ۔ اس انقلابی نظریہ کے دعویدار یہ کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کا مشن مصر میں سیاسی انقلاب برپا کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ حکومتِ وقت کا تختہ الٹ دیں اور ملک کے حکمراں طبقہ کو سرزمین مصر کی فرماں روائی سے بے دخل کر کے ملک کے اقتدار پر قبضہ کریں اور پھر وہاں کے نظام کو بدل کر نئی بنیادوں پر سیاسی و معاشی و تمدنی انقلاب برپا کریں۔ مگر یہ بات سراسر غلط قرار پاتی ہے۔ کیوں کہ اگر حضرت موسیٰ کا مقصد یہی تھا تو فرعون اور اس کے لشکر کی غرقابی کے بعد مصر میں آپ کے لئے میدان صاف ہو چکا تھا اور وہاں حضرت موسیٰ اپنی " قیادت وفرماں روائی کی غیر معمولی قابلیت " کو کام میں لا کر مطلوبہ سیاسی نظام قائم کر سکتے تھے۔ مگر اس کے برعکس یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ مردہ فرعون کے ملک کو چھوڑ کر صحرائے سینا میں چلے گئے، حضرت ابراہیم کا عراق چھوڑ کر جانا اگر اس لئے تھا کہ وہاں آپ کے لئے مواقع حکومت نہیں تھے تو حضرت موسیٰ کیوں مصر کو چھوڑ کر چلے گئے جہاں آپ کے لئے مکمل طور پر مواقع حکومت پیدا ہو چکے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوت کے مشن کی یہ تعبیر سراسر بے بنیاد ہے یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن سے کسی طرح ثابت نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader