Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اصول ، مفاد

Urdu book, p. 179

By Maulana Wahiduddin Khan

من يعمل سوءاً يجزيه ولا يجد له (یہود) کی آرزوؤں پر ہے۔ جو شخص بھی براعمل من دون الله ولياً ولا نصيرا کرے گا اس کو ضرور اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ (النساء (۱۲۳) اور وہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا حمایتی اور مددگار نہ پائے گا۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے جو نوٹ لکھا ہے وہ نہایت با معنی ہے۔ اس نوٹ کو یہاں نقل کیا جاتا ہے : "کتاب والوں، یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کو خیال تھا کہ ہم خاص بندے ہیں، جن گناہوں پر خلقت پکڑی جائے گی، ہم نہ پکڑے جائیں گے۔ ہمارے بغیر حمایت کر کے ہم کو بچائیں گے۔ اور نادان اہل اسلام بھی اپنے حق میں یہی خیال کر لیا کرتے ہیں۔ سو فرما دیا کہ نجات اور ثواب کسی کی امید اور خیال پر موقوف اور منحصر نہیں۔ جو برا کرے گا، پکڑا جائے گا۔ کوئی ہو، اللہ کے عذاب کے وقت کسی کی حمایت کام نہیں آسکتی۔ اللہ جس کو پکڑے، وہی چھوڑے تو چھوڑے۔ اور جو کوئی عمل نیک کرے گا، بشرطیکہ ایمان بھی رکھتا ہو، سو ایسے لوگ جنت میں جائیں گے۔ اور اپنی نیکیوں کا پورا ثواب پائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ ثواب و عتاب کا تعلق اعمال سے ہے، کسی کی امید اور آرزو سے کچھ نہیں ہوتا۔ سو ان امیدوں پر لات مارو اور نیک کاموں میں ہمت کرو۔" (صفحه ۱۲۶)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page