اصول ، مفاد
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
جب لوگوں کا حال یہ ہو کہ ان کی تمام سوچ اور ان کے تمام جذبات خدا کی طرف متوجہ ہوں، وہ خدائی ہدایت کو اولیت دیتے ہوں۔ وہ زندگی کے ہر معاملہ میں ربانی مقاصد کو اونچارکھیں، تو ایسے لوگ خدا کی نظر میں محبوب اور معزز ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ بندوں کی نظر میں بھی محبوب اور معزز قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ خدا کو بھولے ہوئے ہوں، وہ خود ساختہ شریعت پر چلیں ۔ ان کے ذاتی مفادات ہی ان کی زندگی کا مرکز و محور بن جائیں، تو خدا ایسے لوگوں کی طرف سے اپنی نظریں ہٹالیتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی قوم لوگوں کے درمیان حقیر اور مغلوب ہو کر رہ جاتی ہے۔ عروج و زوال کا یہی قانون سابق اہل کتاب (یہود) کے لیے تھا۔ اور عروج و زوال کا یہی اٹل قانون موجودہ اہل کتاب (مسلمانوں) کے لیے بھی ہے۔ یہود کی قیمت اللہ کی نظر میں ان کے عمل کے اعتبار سے تھی، اسی طرح مسلمانوں کی قیمت بھی اللہ کی نظر میں ان کے حقیقی عمل کے اعتبار سے قرار پائے گی نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ اگر مسلمانوں کا حال یہ ہو جائے کہ ان کے رہنما ذاتی عزت و شہرت (self-glory) کے لیے کام کریں ۔ ان کے دولت مند اپنی دولت کو صرف ذاتی حوصلوں کی تکمیل میں لگائیں ۔ ان کا دانشور طبقہ اپنی زبان و قلم کو بازار کا سودا بنا لے ۔ ان کے خواص ان چیزوں کی طرف دوڑیں جن میں اخباری اہمیت (news value) ہوتی ہے۔ ان کے عوام خود ساختہ رسموں کو اپنا لیں ، ان کی اخلاقی حس اتنی کند ہو جائے کہ کوئی شخص عدل کو عدل اور ظلم کو ظلم کہنے والا باقی نہ رہے۔ جب ایسا ہو جائے تو مسلمانوں کے حق میں بھی اسی قانون خداوندی کے نفاذ کا انتظار کرنا چاہیے جو سابق اہل کتاب (یہود) پر نافذ ہوا۔ موجودہ گروہ بھی اسی طرح رد کر دیا جائے جس طرح پچھلا گروہ رد کیا گیا۔ خدا کے یہاں ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ خدائی قانون کے نفاذ میں کسی گروہ کا کوئی استثناء نہیں۔ وہ دوسرے گروہ کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرے گا جو اس نے پہلے گروہ کے ساتھ کیا۔ اس معاملہ میں اگر کسی کو خوش فہمی ہو تو اس کو مدت قرآن کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader