نجات
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
اور کون جھوٹے ہیں (عنکبوت) اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا مومن ہونا یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے کو مومن سمجھے، مومن حقیقت وہ ہے جس کے مومن ہونے کی تصدیق خدا کے یہاں ہو جائے، کسی کے ایمان کو اگر خدا جھوٹا ایمان کہہ دے تو اس کے ایمان کی کوئی قیمت نہیں خواہ دنیا میں وہ مومن اعظم کے نام سے پکارا جاتا ہو۔ کسی کے ایمان کے بارے میں خدا کا فیصلہ معمول کے حالات میں نہیں ہوتا بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتا ہے جس طرح دنیا کی زندگی میں کسی ساتھی یا رشتہ دار کے تعلق کا صحیح پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ کسی قسم کے غیر معمولی حالات پیدا ہو جائیں۔ عام حالات میں کسی ساتھی یا رشتہ داری کی جانچ نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ آخرت کا ہے۔ آخرت کی دنیا میں جن لوگوں کو اس قابل سمجھا جائے گا کہ ان کو اللہ کا پسندیدہ بندہ قرار دیا جائے اور ان کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں وہ رہی لوگ ہوں گے جنھوں نے غیر معمولی حالات میں اپنی خدا پرستی اور تقویٰ کا ثبوت دیا ہوگا۔ یہ غیر معمولی حالات کیا ہیں ، اس سلسلہ میں یہاں چند صورتیں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ ایک صورت دہ ہے جو داعی حق کے اعتراف کے سلسلے میں پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے، پردہ داری کی سنت کے تحت اٹھتی ہے۔ یعنی حق کی آواز بلند کرنے کے لئے اللہ ایک ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جو دیکھنے میں لوگوں کو محض ایک "آدمی" معلوم ہوتا ہو۔ خدا کا داعی ہمیشہ ایک ایسا انسان ہوتا ہے جس کی زندگی میں دو چیزیں اپنی انتہائی صورت میں تلخ ہو جاتی ہیں۔ دلائل کا زور اس کے یہاں کے کامل صورت میں موجود ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ مادی زور کے اعتبار سے اس کو بالکل ناقابلِ لحاظ بنا دیا جاتا ہے۔ اس طرح مدعو گروہ کو اس امتحان میں ڈالا جاتا ہے کہ اہمیت کے نہ ہوتے ہوئے بھی وہ دلائل کے وزن کو پا سکے۔ وہ داعی کی ظاہری حیثیت" سے گزر کر اس کو اس کی چھپی ہوئی حیثیت " میں دیکھے۔ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہوتی ہے اور جو اس غیر معمولی صورت حال میں حق کو پہچان لے رہی خدا کے یہاں ماننے والا اور تسلیم کرنے والا استمرار پائے گا۔ ایک طرف وہ پکارنے والے ہیں جن کے گردو پیش دنیا کی رونقیں جمع ہوتی ہیں۔ دوسری طرف وہ خدا کا بندہ ہے جو ظاہری رونقوں سے خالی ہو کر خالص حق کے لئے آواز دیتا ہے۔ جو لوگ پہلی قسم کی آوازوں پر دوڑیں وہ گویا ظاہری رونقوں پر دوڑے۔ اور جنہوں نے دوسری آواز کو پہچانا اور اس کا ساتھ دیا رہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا کی پکار پر لبیک کہا۔ ۲۔ دنیوی تعلقات میں ہم کو دو طرح کے آدمیوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک وہ شخص جس سے ہمیں کوئی شکایت نہیں ہوتی۔ دوسرا وہ شخص جس سے کسی نہ کسی سبب سے ہم کو شکایت ہو جاتی ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ لوگوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader