Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نجات

Urdu book, p. 190

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ معاملہ کرنے میں ہم انصاف اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کریں، بے انصافی اور بد خواہی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ مگر اس معاملہ میں اللہ ہم کو جہاں جانچ رہا ہے وہ حقیقۃً وہ لوگ نہیں ہیں جن سے ہم کو شکایت کا موقع پیش نہیں آیا۔ بلکہ وہ لوگ ہیں جن کے خلاف کسی وجہ سے ہمارے اندر شکایت اور تلخی پیدا ہو گئی ہے۔ جب ہم شکایت اور ان بن کے باوجود کسی کے ساتھ معاملہ کرنے میں انصاف سے نہ ہٹیں اس وقت ہم اللہ کے یہاں انصاف کرنے والے قرار پاتے ہیں۔ اس کے برعکس عجز آدمی ان بن پیدا ہونے والے شخص کے ساتھ انصاف نہ کرے وہ اسی مقام پر ناکام ہو گیا جہاں خدا اس کی خدا پرستی کا امتحان لے رہا تھا۔ اسی طرح دنیا کی زندگی میں ہمیں دو طرح کے لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ ایک وہ جو کمزور اور ناقابل ذکر ہوں، اور دوسرے وہ جو طاقت در ہوں یا کسی وجہ سے وہ قابل ذکر بن جائیں، پہلی قسم کا ایک آدمی جب ہمارے سامنے آتا ہے اور ہم سے مدد چاہتا ہے تو اس کے پاس اپنی مدد کی طرف مائل کرنے کے لئے کوئی اضافی کشش نہیں ہوتی۔ اگر ہم اس کی مدد نہ کریں تو ہم کو نہ کسی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اور نہ بدنامی کا۔ اس کے برعکس طاقت ور کا ساتھ دینے میں بہت سے پہلوؤں سے امید ہوتی ہے کہ اس کا ساتھ بالآخر خود ہمارے لئے مفید بنے گا۔ اسی طرح مثلاً کوئی قومی مصیبت کا معاملہ پیش آجاۓ تو وہاں کشش موجود ہوتی ہے کہ اس میں شرکت کرنے سے ہماری عزت و شہرت میں اضافہ ہو گا ، ہماری قیادت زیادہ مستحکم ہو جائے گی۔ مگر خدا ہماری انسانیت یا مسلم دوستی کو جہاں جانچ رہا ہے وہ حقیقۃً وہ مواقع نہیں ہیں جہاں طاقت اور عزت کی ترغیبات موجود و موجود ہوتی ہیں۔ بلکہ خدا کے جانچنے کے مواقع وہ ہیں جہاں ایک کمزور اور نا قابلِ لحاظ آدمی آپ کے سامنے کھڑا ہو اور اس کی مدد کرنے کے لئے اللہ کی رضا کے سوا کوئی اور محرک موجود نہ ہو۔ اگر آپ طاقت اور شہرت کے مواقع پر تعاون کرنے میں پر جوش ہوں اور ایک کمزور اور معمولی آدمی کا ساتھ دینے میں آپ کو دل چسپی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خدا کے امتحان میں پورے نہیں اترے۔ ۴۔ اللہ کے لئے عمل کرنے کی ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنی زندگی میں کوئی خلل پیدا کئے بغیر دین دار بنا ہوا ہو۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب کہ اپنی نئی زندگی کو جواز کر دین دار بنا ہو اور جان و مال کو قربان کر کے اللہ کی طرف بڑھناپڑے۔ اللہ کے مقبول بندوں میں شامل ہونے کے لئے پہلی قسم کی دین داری کافی نہیں۔ اللہ کے یہاں صرف اس کا ایمان دا سلام مقبول ہوتا ہے جو فائدوں اور مصلحتوں کے گھروندے کو توڑ کر اللہ ڈالا بنے۔ اللہ کا دین جب اس سے اس کے جان اور اس کے مال کا تقاضا کرے تو وہ جان و مال کو دے کر اللہ کی طرف بڑھے۔ وہ کسی تحفظ کے بغیر اللہ کے دین کو اپنی زندگی کا دین بنا لے۔ اس کے برعکس جس شخص کا حال یہ ہو کہ وہ بغیر قربانی والے دین کا اہتمام کرے اور قربانی والے دین سے اپنے کو بچا کر رکھے تو ایسے شخص کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ قربانی والے دین سے اپنے کو دور رکھنا گویا اپنے آپ کو اس امتحانِ بال میں داخل نہ کرنا ہے جہاں لوگوں کی یاقتوں کو جانچا جا رہا ہے اور جہاں کی جانچ کے مطابق ہی کسی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا باہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page