Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نجات

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی جنت کے دروازے کھولنا چاہتا ہے مگر وہ کانٹوں اور آگ کے شعلوں میں پڑا ہوا ہے کیا یہ دونوں قسم کے لوگ اپنی اپنی کارگزاری دکھا کر ختم ہو جائیں گے اور اس کے بعد دونوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہونا ہے۔ کیا کوئی ایسی دنیا نہیں جہاں دونوں کا فرق ظاہر ہو۔ کیا یہ دنیا عیاروں اور باطل پرستوں کی تماشاہ گاہ ہے۔ کیا خدا نے یہ عظیم اہتمام اس لئے کیا ہے کہ یہاں حق پرستوں کے اوپر کتے بھونکیں اور چوکز رہیں، بھیڑیئے ان کا خون ہیں ۔ کیا دنیا کا اسٹیج اس لئے ہے کہ کچھ لوگ یہاں اپنی شیطانی ہوس کی تسکین حاصل کریں اور کچھ لوگ ان کی ہوس کا شکار ہوتے رہیں۔ اور اس کے بعد یہ سارا ڈرامہ یوں ہی ختم ہو جائے۔ ایسا ممکن ہے۔ کائنات کی بے پناہ معنویت اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ اس کا خاتمہ ایسے بے معنی انجام پر نہیں ہو سکتا۔ با معنی کائنات صرف با معنی انجام پر ہی ختم ہو سکتی ہے۔ موجودہ دنیا اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ نامکمل ہے اور اس کا نامکمل ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد ایک آخرت ہو جہاں ہر ایک کو جانچاجائے اور اس کے عمل کے مطابق اس کو اچھا یا برا مقام عطا کیا جائے۔ درخت میں غلط کھاد ڈالئے تو وہ سوکھ کر ختم ہو جائے گا اور جب آپ اس کو صحیح کھاد اور پانی پہنچاتے ہیں تو وہ ایک ہری بھری کائنات کی صورت میں زمین کے اوپر ابھرتا ہے۔ وہ رنگ اور خوشبو اور غذا نکتہ دیتا ہے۔ وہ تازہ ہوا کھیتا ہے اور زمین کی خوش نمائی میں اضافہ کرتا ہے۔ اور بے شمار دوسرے فائدے پہنچاتا ہے۔ یہی حال اس درخت کا ہے جس کو انسان کہتے ہیں، جو شخص خدا کے قانون کے مطابق اپنے وجود کی صحیح نگہداشت کرے گا، جو اپنی ہستی کو صالح خوراک پہنچائے گا وہ خدا کی زمین میں پھلے پھولے گا اور آخرت میں ایک عالی شان باغ کی صورت میں نمایاں ہوگا۔ وہ خوشیوں اور لذتوں کی ایک ایسی کائنات کی شکل اختیار کرے گا جس کی بہاریں کبھی ختم نہ ہوں، جس کے امکانات کی کوئی حد نہ ہو۔ دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو اپنی ہستی کے درخت کو غلط پانی دیں اور اس کی جڑوں میں وہ کھاد ڈالیں جو خدا نے اس کے لئے مقرر نہیں کی ہے۔ ایسے لوگ اپنے درخت کو کھنڈر بنا رہے ہیں۔ وہ اس کے اجاڑ کی صلاحیت کو فنا کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ آخرت کی دنیا میں اس حال میں پہنچیں گے گمان کے پاس درخت حیات کے نام سے سوکھی لکڑیوں کے سوا اور کچھ نہ ہو گا۔ جو جہنم میں جلنے کے لئے ڈال دی جائیں۔ اس قسم کے لوگ موجودہ دنیا میں اگر بظاہر ہر تر و تازہ دکھائی دیتے ہوں تو یہ بھی ان کے اوپر خدا کے غضب کی ایک صورت ہے۔ نہ خدا ان کو مہلت دے کر چاہتا ہے کہ وہ اپنی ظاہری سرسبزی سے دھوکے میں پڑ جائیں اور مزید سرکشی کر کے اپنے جرم کو اور زیادہ ثابت کر دیں۔ دنیا میں آدمی اپنے گرد و پیش اعوان وانصار کو دیکھ کر غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دنیا کی زندگی میں اپنے مددگاروں کے ذریعہ میں اپنے کام بنارہا ہوں اسی طرح آخرت میں بھی بنالوں گا۔ مگر یہ زبر دست بھول ہے۔ آخرت میں آدمی اس حال میں پہنچے گا کہ ہر قسم کا سہارا اس سے دور ہو چکا ہوگا ، وہاں وہی شخص سہارے ڈالا ہوگا جس کا خدا سہارا بنے۔ آخرت میں وہ تمام الفاظ بے معنی ہو جائیں گے جو دنیا میں لوگوں کو با معنی نظر آتے ہیں اور وہ تمام طاقتیں بالکل بے زور ثابت ہوں گی جن کے بل پر آدمی آج اپنے کو طاقت در سمجھے ہوئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page