Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نجات

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

بامعنی کائنات بے معنی انجام پرختم نہیں ہوسکتی وما خلقنا السموت والارض وما بينهما اور ہم نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے لعبين - ما خلقنهما الا بالحق ولكن اكثر هم لا کھیل کے لئے نہیں بنایا۔ ان کو ہم نے حق کے ساتھ بنایا ہے۔ يعلمون - ان يوم الفصل ميقاتهم اجمعين مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ یہا شبہ فیصلہ کا دن سب کا يوم لا يغني مولى عن مولى شيئا ولا هم ينصرون مقرر ہے جس دن کوئی دوست کام نہ آئے گا نہ ان کو الا من رحم الله انه هو العزيز الرحيم کچھ مدد پہنچے گی۔ ہاں جس پر اللہ رحم کرے وہ اللہ زبر دست (دخان ۴۲ - ۴۸) ہے اور مہربان یہی بات قرآن میں دوسرے مقام پر ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ زمین و آسمان کو ہم نے باطل اور عبث نہیں بنایا (مومنون، ص) ایک عام آدمی جب دنیا کے منظر کو دیکھتا ہے تو اس کو عجیب نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں سچے اپنی سچائی کا انعام نہیں پاتے اور بر دلوں کو ان کی برائی کی سزا نہیں ملتی۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس دنیا میں کہیں پتھر غفلت پائے ہوئے ہیں اور انسان ذلیل ہو رہا ہے۔ کہیں شریر لوگوں کو اونچا درجہ مل رہا ہے اور نیک لوگ روندے جا رہے ہیں۔ کوئی مفاد اور مصلحت پر چل کر کامیابیاں سمیٹ رہا ہے اور کوئی اصولوں کی خاطر اپنی زندگی کو تباہ کئے ہوئے ہے۔ کسی کو نعروں اور تقریروں پر پلیٹ فارم مل رہی ہیں اور کسی کو اپنے آپ کو مٹا دینے کے بعد بھی کوئی کریڈٹ نہیں ملتا۔ کہیں انسانوں کو آپس میں لڑانے والے مصلح کا خطاب پا رہے ہیں اور کہیں لڑائی سے بچنے کی کوشش کرنے والوں کو سزا مل رہی ہے۔ کہیں ایک شخص کھلی غلطی کر کے بھی الفاظ کا نہ ختم ہونے والا ذخیرہ پالیتہا ہے جس سے وہ اپنے کو حق بجانب ثابت کر سکے اور کہیں غلطی کر کے آدمی پر ایسی چپ لگتی ہے گویا اس کے پاس بولنے کے لئے الفاظ ہی نہیں۔ کہیں خدا کے نام پر کسی کو شان دار کاروبار رہا ہے اور کہیں خدا کا نام لینا آدمی کے لئے اپنے کو مٹانے کے ہم معنی بن رہا ہے۔ کوئی شخص ہے جو ایک انسان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس کے اوپر درندوں کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے اور کوئی ہے جو دوسرے پر قابو یافتہ ہونے کے با وجود اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ کہیں ایک شخص حق پسندی کی خاطر اپنے آپ کو دوسرے کے مسئلہ میں الجھا دیتا ہے اور کہیں آدمی حق کی پامالی دیکھتا ہے اور یہ سوچ کر چپ رہ جاتا ہے کہ جب میرا کچھ بگڑنے والا نہیں ہے تو میں دوسرے کے مسئلہ میں اپنے کو کیوں پھنساؤں۔ کہیں سچائی ظاہر ہونے کے بعد بھی آدمی اپنی عزت کو بچانے کے لئے اس کا اعتراف نہیں کرتا اور کہیں ایک آدمی اپنی عزت کے سوال کو بھول کر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ کہیں ایک آدمی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر پورے ملک اور قوم کی قسمت کو داؤ پر لگا دیتا ہے اور کہیں آدمی اپنی قوم کو بچانے کی کوشش میں اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔ کوئی اپنے دل میں دوسروں کی خیر خواہی کا جذبہ لئے پھرے اور اس کو حاسد اور عداوت کا۔ کوئی دوسروں کے اصلاح کے لئے دعا ئیں کر رہا ہے اور کوئی دوسروں کے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page