Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نجات

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

وَاسْتَرْشَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ٥ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أْتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ٥ (آل عمران - ۱۸۸، ۱۸۷) اور جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور اس کو نہ چھپاؤ گے۔ پھر انھوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا اور اس کے بدلے میں مول لے لیا تھوڑا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ لے رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے اس کام پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے پن کے تعریف ہو، ان کو مت سمجھو کہ وہ عذاب سے بچاؤ میں رہیں گے اور ان کو درد ناک سزا ہوگی۔ "پن کے تعریف چاہنا" سے مراد ہے غیر دینی کام پر دینی کام کا کریڈٹ لینا۔ قومی اور دنیوی محرکات کے تحت سرگرمی دکھانا اور اس کے حق میں کتاب الہی کے حوالے اس طرح پیش کرنا گویا یہ سب کچھ دین خدا وندی کے احیاء کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کا مظاہرہ کرنے والے اس خوش گمانی میں مبتلا ہیں کہ وہ خدا کے یہاں دین داری کا انعام پائیں گے اور ان کو بے دینوں کے زمرہ میں شامل نہ کیا جائے گا۔ ان کے نمائش کام ان کو خدا کی پکڑ سے بچانے والے ثابت نہیں ہو سکتے۔ ان آیتوں میں یہود کے کردار پر تنقید ہے۔ یہود نے اپنی مذہبی کتاب تورات کو ترک نہیں کیا تھا اور نہ اس کے تذکرہ کو چھوڑ رکھا تھا۔ ان کے یہاں تورات پڑھنے پڑھانے کا رواج تھا۔ اپنی تقریبات اور رسوم کو وہ مذہبی انداز سے انجام دیتے تھے۔ نبیوں اور بزرگوں کے قصے بے شمار تعداد میں ان کے درمیان پھیلے ہوئے تھے۔ مذہبی علما کثرت سے ان کے درمیان موجود تھے۔ وہ جو کچھ کر رہے تھے سب دین یہود کے نام پر کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ اپنے دنیوی اور قومی کاموں کے ذیل میں بھی کتب مقدسہ کے حوالے دیتے تھے۔ مگر باعتبار حقیقت یہ دین یہود کا استحصاں تھا کہ اس پر عمل کرنا۔ تورات کی حیثیت ان کے نزدیک رہنما کتاب کی نہیں رہ گئی تھی۔ بلکہ وہ ایک ایسی کتاب تھی جان تھی جو ان کے فرقہ نشان ہو اور ان کی قومی سرگرمیوں کو سند جواز عطا کرے۔ انھوں نے عقیدہ بنایا کہ اسرائیلی نسل کے تمام لوگ جنت میں جائیں گے اور اس کے لئے ان کو اپنے دین میں دلیل مل گئی (آل عمران) اپنی جاہلیت کی زندگی کے نتیجہ میں پیش آنے والے مصائب کی خاطر وہ قومی فنڈ قائم کرتے اور اس کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے تورات کا حکم پیش کرتے (بقرہ ۸۵) وہ اپنے علماء اور بزرگوں کے پیچھے چلتے اور اپنی اس شخصیت پرستی کو خدا پرستی کا نام دے دیتے (توبہ ۳۱) حتیٰ کہ انھوں نے نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو ماننے سے انکار کیا اور اپنے کو بر سر حق ثابت کرنے کے لئے تورات سے دلیل پیش کی (آل عمران (۱۰۳) یہودیوں کی صہیونی تحریک جو تمام تر قومی احیار کی تحریک ہے، اس کے لئے بھی ان کو دلائل تورات ہی کے صفحات سے مل رہے ہیں۔ کیوں کہ ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page