Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نجات

Urdu book, p. 196

By Maulana Wahiduddin Khan

نزدیک یہ اس وعدہ الہی کو پانے کی کوشش ہے جو خدا وند نے اپنی کتاب میں ان کے لئے لکھا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں آیات اللہ کو دے کر ثمن قلیل “ لینا کہا گیا ہے یعنی دنیوی سرگرمیوں اور قومی تحریکوں کے لئے آسمانی سند پیش کرنا، احیار دین کا نام لینا اور اخیار قوم کے کام میں مشغول رہنا، اللہ کی کتاب کو پڑھنا پڑھانا مگر عملاً مقصود یہ ہونا کہ قوم کے اندر مذہبی قیادت حاصل ہو جائے۔ یہود کے سپرد جو مشن کیا گیا، وہ یہ تھا کہ وہ اللہ کی دی ہوئی کتاب کو اس کی اصل صورت میں لوگوں کے سامنے بیان کریں گے۔ وہ توحید کی تعلیمات سے دنیا والوں کو باخبر کریں گے۔ یہ وہی چیز تھی جس کو دعوت الی اللہ یا شہادت علی الناس کے نام سے امت محمدی پر فرض کیا گیا ہے۔ یہ ایک خالص اخروی کام ہے اور اس کو اخروی انداز ہی میں انجام دینا ہے۔ مگر یہود نے دعوت آخرت اور پیغام توحید کے مشن کو چھوڑ دیا۔ عام قوموں کی طرح انھوں نے ایک دنیا دارانہ زندگی اختیار کر لی۔ البتہ اس کے ساتھ وہ تورات کا درس اس طرح دیتے رہے گویا کتاب اللہ کی رسی ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتی ہے۔ گویا وہ جو کچھ کر رہے ہیں عین خدا کے حکم کے تحت کر رہے ہیں۔ تو رات کی تعلیمات کی انھوں نے ایسی تشریح و تغیر کی جوان کی اپنی خود ساختہ زندگی پر چسپاں ہوتی ہو اور اس کی تصدیق کر رہی ہو۔ انھوں نے تعمیل نفس کا کام کیا اور اس پر تحصیل خداوندی کا لیبل لگا دیا۔ انھوں نے قومی احیار کی سرگرمیوں کو دینی احیار کی سرگرمیوں کا مقام دے دیا۔ انھوں نے قیادت کی عزائم کے تحت تحریکیں اٹھائیں اور ان کو یہ حیثیت دے دی گویا یہ سب خداوند عالم کا بول بالا کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگ گویا ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کو انھوں نے حقیقہً کیا نہیں۔ اس قسم کا دھوکا خدا کے یہاں نہیں چل سکتا۔ ان کے نمائشی کام ان کو خدا کے یہاں بچانے والے ثابت نہ ہوں گے۔ اپنی تمام خوش فہمیوں کے باوجود وہ اسی آگ کے عذاب میں ڈال دیئے جائیں گے جس کو وہ صرف دوسروں کے لئے سمجھتے تھے۔ دعوت حق کا کام خالص اخروی کام ہے۔ یہ کام صرف وہی گروہ انجام دے سکتا ہے جو آخرت کی سطح پر جی رہا ہو۔ جو لوگ خود اپنے لئے جنت اور جہنم کو سب سے بڑا مسئلہ بنائے ہوئے ہوں وہی محسوس کر سکتے ہیں کہ سب سے بڑا کام یہ ہے کہ لوگوں کو جنت اور جہنم کے مسئلے سے آگاہ کیا جائے۔ کتاب آسمانی کے حامل گردہ پر جب زوال آتا ہے تو وہ دنیا کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ اب دنیا کی عزت و ذلت اس کے لئے سب سے بڑی چیز بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ”اندار آخرت“ کے کام کا محرک اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ اب وہ خدا کے دین کو اپنی دنیوی زندگی کی سطح پر اتار لاتا ہے۔ وہ اپنی قومی تحریکوں کو پیغمبرانہ تحریک کا عنوان دیتا ہے۔ وہ اپنے دنیوی مسائل کے لئے اٹھتا ہے اور اس کو آسمانی ہدایت کی اصطلاحات میں بیان کرتا ہے۔ وہ مادی مقاصد کے لئے ہنگامے کھڑے کرتا ہے 1: ہر اس کو خدا کی راہ میں جہاد کرنا بتاتا ہے کہ وہ اپنی لیڈری کو بچانے کے لئے اٹھتا ہے اور نعرہ یہ لگاتا ہے کہ ملک وملت کو بچاؤ“ یہ سب گویا بن کے پر لئے کی تعریف چاہنا ہے۔ مگر اس قسم کی کوشش کسی کو صرف سزا کا مستحق بناتی ہے نہ کہ انعام کا۔ (۱۳ جون ۱۹۷۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page