Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دین میں آسانی

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

دین میں آسانی قرآن (البقرہ ۱۸۵) میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا (يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر) دوسری جگہ (الحج ۷۸) فرمایا کہ اللہ نے تمہارے اوپر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی (وما جعل عليكم في الدين من حرج) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ان هذا الدين يسر البخاري، كتاب الايمان) یعنی یہ دین آسان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارا بہتر دین وہ ہے جو آسان ہو : (ان خير دينكم اليسر مسند احمد) آپ نے نصیحت کرتے ہوئے فرمايا كہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو (يسروا ولا تعسروا) اسی لیے فقہ میں شریعت کے بارہ میں یہ اصولی مسئلہ وضع کیا گیا ہے کہ : (المشقة تجلب التيسير)۔ یعنی مشقت آسانی لاتی ہے۔ حنفی عالم زین الدین ابن ابراہیم بن محمد مصری (دم ۹۷۰ ھ) جو ابن نجیم کے نام سے مشہور ہیں، انھوں نے اصول فقہ پر اپنی کتاب الاشباہ والنظائر میں ایک بحث کا عنوان یہ قائم کیا ہے : (القاعدة الرابعة، المشقة تجلب التيسير (چوتھا قاعدہ اس بات پر کہ مشقت آسانی لاتی ہے) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین بذات خود کوئی سہولتوں اور آسانیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ دین کے راستہ میں جب حالات کے تحت کوئی مشقت کی صورت پیدا ہو جائے تو وہاں لوگوں کو مشقت میں نہیں دھکیلا جائے گا، بلکہ ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت، بیماری میں وضو کے بجائے تیمم ہے۔ سخت بارش میں مسجد کے بجائے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ سفر میں روزہ چھوڑ دینا ہے ، وغیرہ۔ یہی اصول ملی زندگی کے لیے بھی ہے۔ جہاں اقدام کرنا موت کی طرف چھلانگ لگانے کے ہم معنی ہو وہاں اعراض کی تعلیم ہے۔ جہاں اجتماعی مظاہرہ میں نقصان کا اندیشہ ہو وہاں غیر مظہراتی انداز اختیار کرنے کا حکم ہے۔ جہاں سیاسی اصلاح کو نشانہ بنانے میں ہلاکت پیش آنے والی ہو وہاں انفرادی اصلاح پر اپنی کوششوں کو رگانا ہے۔ جہاں شور والے دین میں تباہی ہو وہاں خاموشی والادین اختیار کر لینا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page