Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

مرغوبات دنیا

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

مرغوبات دنیا قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ؛ لوگوں کے لیے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی ، عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان لگے ہوئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی، یہ سب دنیوی زندگی کے سامان ہیں، اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے (آل عمران ۱۴) خواہشوں کی محبت (حب الشھوات) بہت عام لفظ ہے۔ اس میں دورِ قدیم کی مرغوب چیزوں سے لے کر موجودہ صنعتی دور کی مرغوب اشیا تک ہر چیز شامل ہے۔ ان دنیوی چیزوں کی چمک دمک آدمی کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ آیت کے مطابق ، یہ ایک پیدائشی جذبہ ہے، کوئی بھی شخص اس جذبے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ایسی حالت میں ایک مومن کو کیا کرنا چاہیے۔ اس کا بہترین جواب حضرت عمرؓ کی وہ دعا ہے جو صحیح البخاری میں بطور تعلیق روایت کی گئی ہے۔ اس کے مطابق ، حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے قرآن کی مذکورہ آیت پڑھی گئی تو انھوں نے کہا : اللہُمَّ اِنّا لا نَسْتَطِيعُ إِلَّا أَنْ نَفْرَحَ بما زَيَّنْتَ لَنا۔ اللہُمَّ اِنّی اَسْئَلُکَ اَنْ اُنْفِقَدَ فِی حَقِّه (فتح الباری ۴۶۳/۱۱) دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : لا نستطيع إلّا ان نحب ما زينت لنا، فتقنی شرّه وارزقنی ان انفقده في حقك (صفحه ۴۶۳) حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے اللہ! یہ ہمارے بس میں نہیں کہ ہم ان چیزوں پر خوش نہ ہوں جن کو تو نے ہمارے لیے مزین کر دیا ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے یہ توفیق مانگتا ہوں کہ ان چیزوں کو میں ان کے حق میں صرف کروں۔ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب نہیں ہے کہ مرغوبات دنیا کو دیکھ کر آدمی متاثر نہ ہو۔ اگر وہ متاثر نہ ہو تو پھر اس کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔ آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر متاثر ہو مگر وہ اس میں لت پت نہ ہو جائے۔ وہ اپنے قلبی تاثر کو عملی روش بننے سے بچائے۔ وہ ظاہری مرعوبیت سے گزر کر اس کے اندرونی غیر مرغوب پہلو کو دیکھ لے۔ دنیا اسے اپنی طرف کھینچے ، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو کھینچ کر خدا کی طرف لے جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page