Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ وقال الذين كفروا للذين آمنوا لوكان خيرا انکار کرنے والے لوگ ماننے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ما سبقونا اليه ط واذا لم يهتدابه فسيقولون قرآن اگر کوئی اچھی چیز ہوتی تو اس کو قبول کرنے میں یہ لوگ هذا إفك قديم (احقاف (11) ہم سے آگے نہ نکل جاتے۔ جب وہ اس کے بتانے سے راہ پر نہیں آئے تو اب وہ کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے۔ کسی معاشرہ میں جب حق کی آواز بلند ہوتی ہے تو عام طور پر وہ لوگ اس کی طرف کھنچتے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی سے دوچار ہوں اور اپنے اندر خلا محسوس کرتے ہوں۔ ان کا اندرونی خلا کا احساس ان کے لئے ایک مددگار قوت بن جاتا ہے اور وہ کسی جھلپ یار ڈٹ کے بغیر حق کو پالیتے ہیں اور اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جن کی عزت و شہرت کے کھونٹے گڑے ہوئے ہوں، جو فتح وکامرانی کے احساس میں مگن ہوں، جن کی تمام ضرورتیں بافراط پوری ہو رہی ہوں، جن کو ہر طرف اپنے لئے میدان کھلے ہوئے نظر آتے ہوں۔ ایسے لوگوں کے اندر ایک قسم کی قناعت پیدا ہو جاتی ہے، وہ اپنے سے باہر کسی آواز کو اپنانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ حق کی آواز کو قبول کرنے میں سب سے زیادہ پیچھے وہ لوگ رہتے ہیں جن کو روایتی مذہبی نظام میں بڑی بڑی گڈیاں حاصل ہوگئی ہوں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اسلاف کا جانشین کہا جاتا ہے۔ مذہب کی نمائندگی کے اسٹیج پر وہ تقدیری کمال دکھار ہے ہوتے ہیں، صدارت اور استقبال کے اعزازات ہر جگہ ان کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ہدئے اور نذرانے کی ریتیں ان کے پاس اس طرح آنے لگتی ہیں گویا وہ مذہبی شہزادے ہیں اور ساری قوم ان کی بارج گزار ہے۔ یہ صورت حال ان کے اور ان کے پیروؤں کے اندر یہ جھوٹا یقین پیدا کردیتی ہے کہ وہی حق پر ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ حق کی آواز کی طرف نسبتاً کمتر درجہ کے لوگ بڑھ رہے ہیں، اور وہ اپنے اندر اس کے لئے کشش نہیں پاتے، تو وہ شعوری یا غیر شعور کی طور پر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ حق نہیں ہے۔ اگر وہ حق ہوتا تو لازم تھا کہ وہ سب سے پہلے ان کو اپنی طرف کھینچتا۔ خدا کو پانے کی واحد قیمت اپنی ذات کی نفی ہے۔ اپنی نفی کے بعد ہی خدا کا اثبات ہوتا ہے۔ خدا ظاہر کو نہیں باطنی کو دیکھتا ہے۔ وہ ٹوٹے ہوئے دلوں کے پاس ہوتا ہے۔ وہ ان سینوں میں اترتا ہے جنہوں نے غیر خدائی چیزوں سے اپنے کو پوری طرح خالی کر لیا ہو۔ جب آدمی اس مقام پر پہنچتا ہے جہاں وہ خدا کا ہم صحبت بن سکے تو یہ دقت دہ ہوتا ہے جب کہ وہ ان دنیوی زخارف سے خالی ہو چکا ہوتا ہے یا انسانوں کی نظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کی نظریں دنیا کی چمک دمک سے اوپر نہ اٹھی ہوں وہ ان کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتے۔ ایسے انسان کو وہ حق کا طالبکار سمجھنے کے بجائے ایک سرپھرا آدمی سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اپنی "گڑیوں"، پر بیٹھے ہوئے نہایت اطمینان سے کہہ دیتے ہیں : بر خود غلط قسم کے لوگ ہمیشہ اس قسم کا ڈھونگ کھڑا کرتے رہتے ہیں، یہ بھی اسی فہرست میں ایک اضافہ ہے۔ اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page