Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت میں اللہ عیانًا سامنے آجائے گا۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ پر اس حال میں ایمان لانا ہے کہ وہ حالت غیب میں ہے۔ یہاں خدا کی نشانیوں سے خدا کو پہچاننا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس دنیا میں خدا دلیل اور برہان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ آیات اللہ پر غور کرو۔ اللہ کی آیتوں کو ماننا خدا کو ماننا ہے۔ اور اللہ کی آیتوں کا انکار کرنا خدا کا انکار کرنا ہے، آیات کیا۔ یہ خدا کو پہچانے کے دلائل ہیں جو کبھی فطرت کے اشاروں میں اور کبھی دالی کے الفاظ کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ صحیح دلیل خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہوتی ہے۔ اس کی صحت کو پالینا خدا کو پالینا ہے اور اس کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھک جاتاہے۔ صحیح دلیل سامنے آنے کے بعد جو شخص جدال کرے، جو اپنی دولت اور در جہالت کے گھمنڈ میں اس کو نظر انداز کردے، وہ گویا خدا کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے جس کے پاس خدا خود آیا مگر اس نے خدا کا استقبال نہ کیا۔ پیغمبروں نے خدا کی طرف سے حق کی آواز بلند کی۔ مگر وقت کے غالب لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کی بڑی وجہ ان کی خود فریبی تھی۔ چوں کہ وہ وقت کی معاشیات پر قابض تھے۔ اقتدار کے اداروں میں ان کو رتبہ حاصل تھا۔ اعوان و انصار کی بھیڑ ان کے گرد جمع تھی۔ اس بنا پر ان کے لیے یقین کرنا مشکل ہو گیا کہ وہ حق پر نہیں ہیں۔ جب انھوں نے دیکھا کہ جس چیز کو حق کہا جاتا ہے اس کا انکار کرنے سے ان کا کچھ نہیں بگڑا۔ ان کا دبدبہ بدستور قائم ہے۔ ان کے مواقع پھر بھی کھلے ہوئے ہیں اور ان کے دنیوی کام اس کے باوجود جن رہے ہیں تو وہ ایک قسم کے نفسیاتی فریب میں مبتلا ہو گئے۔ وہ دالی حق کے مقابلہ میں اپنی کامیابیوں کو دیکھ کر دھوکے میں پڑ گئے۔ وہ سمجھنے لگے کہ "جب میں کامیاب ہوں تو یقیناً میں ہی حق پر ہوں۔" ظاہری کامیابی کسی کے بر سر حق ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ مگر ظاہری کامیابی اکثر آدمی کو خود فریبی میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آدمی کا رب بعض اوقات اس کو وقتی اور ظاہری کامیابی اس لئے دے دیتا ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ اس کو آزمائے۔ وہ دیکھے کہ کیا وہ اپنی کامیابیوں کو دیکھ کر دھوکہ میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذہنی خول میں اپنا ایک گھروند بنا لیتا ہے اور اسی کے اندر جینے لگتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے خیالی گھروندے کا حقیقت کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ اپنے خود ساختہ گھروندے کے خانہ میں چوں کہ اس کو اپنی ذات درست نظر آتی ہے۔ اس لئے وہ سمجھ لیتا ہے کہ فی الواقع بھی وہ درست اور صحیح ہے۔ خدا زمین و آسمان کی خاموش زبان میں بولتا ہے۔ وہ اپنے چنے ہوئے بندوں کے ذریعہ اپنی بات کا اعلان کرتا ہے وہ انسان کے ضمیر میں داخل ہو کر حقیقت کا آئینہ اس کے سامنے کر دیتا ہے۔ مگر انسان اپنی جھوٹی خوش گمانیوں کی وجہ سے ان پر دھیان نہیں دیتا۔ خدا اس کو سچائی کی جھلک دکھاتا ہے۔ مگر وہ اپنے نفسیاتی بندھنوں کو توڑ کر اس کی طرف نہیں دوڑتا۔ خدا کا حسین روپ اس کے سامنے کھولا جاتا ہے۔ مگر وہ اس کی قدر دانی کا حق ادا نہیں کرتا۔ موت ان جھوٹی خوش گمانیوں کے طلسم کو توڑ دے گی۔ اس وقت آدمی کو معلوم ہوگا کہ وہ جہنم کے کنارے کھڑا ہوا تھا اگر چہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مالک سمجھ رہا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page