ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی کیوں ؟ انجیل کے مطابق، فلسطین کے یہودیوں نے جب حضرت مسیح کی پیغمبری کو ماننے سے انکار کر دیا تو آخر میں انھوں نے آپ کو کا فرقرار دے کر مار ڈالنے کی سازش کی۔ ان کے مذہبی سردار نے کہا: وہ قتل کے لائق ہے۔ اس پر انھوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور اس کے مکّے مارے۔ جب صبح ہوئی تو سب سردار کا مہنوں اور قوم کے بزرگوں نے یسوع کے خلاف مشورہ کیا کہ اسے مار ڈالیں ۔ وہ اسے باندھ کر لے گئے اور پیلاطس حاکم کے حوالے کیا۔ رومی حاکم کا دستور تھا کہ عید پر لوگوں کی خاطر ایک قیدی جسے وہ چاہتے تھے چھوڑ دیتا تھا۔ اس وقت بڑا با نام کا ان کا ایک مشہور ڈاکو قیدی تھا۔ پس جب وہ اکٹھے ہوئے تو پیلاطس نے ان سے کہا: تم کے چاہتے ہو کہ میں تمھاری خاطر چھوڑ دوں۔ بڑا با ڈاکو کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے، کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ انھوں نے اس کو حسد سے پڑوایا ہے۔ انھوں نے کہا بڑا با کو۔ پیلاطس نے ان سے کہا پھر یسوع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں۔ سب نے کہا وہ مصلوب ہو۔ اس نے کہا کیوں ۔ اس نے کیا بھلائی کی ہے۔ مگر وہ اور بھی چلا چلا کر کہنے لگے وہ مصلوب ہو۔ جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑتا بلکہ الٹا بلویا ہوا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے رو برو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا: میں اس راست باز کے خون سے بری ہوں ۔ تم جانو۔ سب لوگوں نے جواب میں کہا: اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر۔ اس پر اس نے بڑا با کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کیا کہ مصلوب ہو۔ اس پر حاکم کے سپاہیوں نے یسوع کو قلعہ میں لے جا کر ساری پلیٹن اس کے گرد جمع کی اور اس کے کپڑے اتار کر اسے قرمیزی چوخہ پہنایا اور کانٹوں کا تاج بنا کر اس کے سر پر رکھا اور ایک سرکنڈا اس کے ہاتھ میں دیا اور اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اسے ٹھٹھوں میں اُڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ آداب۔ اور اس پر تھوکا اور وہی سرکنڈ الے کر اس کے سر پر مارنے لگے۔ اور جب اس کا ٹھٹھا کر چکے تو چوخہ کو اس پر سے اتار کر پھر اس کے کپڑے اسے پہنائے اور مصلوب کرنے کو لے گئے۔ (متی باب ۲۸) یہود نے اپنی تاریخ کے مطابق، یسعیاہ نبی، یرمیاہ نبی، زکریا نبی، یحییٰ نبی کو قتل کیا۔ عیسیٰ مسیح کو بھی اپنے خیال کے مطابق قتل کر ڈالا۔ تا ہم اللہ نے آنجناب کو بچالیا۔ اسی طرح انھوں نے سیکڑوں کی تعداد میں اپنی قوم کے صالحین کو قتل کیا۔ یہ غیر معمولی سنگ دلی ان سے کیوں ظاہر ہوئی۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی: تنقید کو برداشت نہ کرنا۔ انبیاء اور ان کے سچے پیرو یہودیوں کی برائیوں پر ٹوکتے تھے اور ان کو انصاف کی تلقین کرتے تھے (وقتلون الذين يأمرون بالقسط، آل عمران (۲۱) یہود نے اپنی بے دین زندگی پر دین کا لیبل لگا رکھا تھا ۔ داعیان حق جب اس کی حقیقت کھولتے تو وہ بگڑ جاتے۔ یہی صورت حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت پیش آئی۔ یہود اپنے کو اس حیثیت سے پیش کرتے تھے کہ وہ آسمانی ہدایت کے حامل ہیں، وہ نبیوں کی اولاد ہیں۔ وہ دین خدا وندی کے نمائندے ہیں۔ ایسی حالت میں ان کو محسوس ہوا کہ قرآن کی دعوت ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار بنا رہی ہے ۔ وہ ان کو دینی پیشوائی کی گدی سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader