Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک گروہ جو آسمانی کتاب کا حامل ہو، اس کی گمراہی یہ نہیں ہوتی کہ وہ دین سے بالکل بے تعلق ہو جائے۔ اس کی گمراہی تحریف (نساء: ۴۶) ہے۔ یعنی خود ساختہ دین پر چلنا اور لفظی تاویلوں اور تشریحیوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرنا کہ یہی عین خدا اور رسول کا دین ہے۔ بالفاظ دیگر، دین کا نام لیتے ہوئۓ لیے دینی اختیار کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جو دین مقرر کیا ہے، اس کی ایک سیدھی شاہراہ (صراط مستقیم) ہے۔ یہ شاہراہ ہے ـــــــــ۔ اللہ پر یقین، آخرت کا خوف، خشوع اور انابت، بندوں کے ساتھ خیر خواہی، معاملات میں انصاف، بے لاگ حق پرستی، دعوت الی اللہ وغیرہ۔ یہی وہ اصل چیزیں ہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں سارا قرآن ان کی تاکید سے بھرا ہوا ہے۔ ان کیفیات واعمال کے ساتھ جو زندگی بنتی ہے اس کو ایک لفظ میں آخرت رخی زندگی کہہ سکتے ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے بعد جب قوموں میں فسادت (حدید: ۱۴) آجاتی ہے اور دھیرے دھیرے آخرت کا فکر کمزور پڑ جاتا ہے تو دنیا پرستی کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اب لوگوں کے اندر ایک اور دین ابھرنا شروع ہوتا ہے۔ یہ ہے دنیار خمی دین جس کو قرآن میں آخرت کے بدلے دنیا خرید تا (بقرہ: ۸۶) کہا گیا ہے۔ یعنی اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر دین کا لیبل لگاتا، خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دنیوی اعمال کو آخرت کی کامیابی کا سبب بتانا ناسلام حقیقتہً یہ ہے کہ اپنی زندگی کو خدائی مرضیات کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ مگر اب ایک ایسا اسلام وجود میں آتا ہے جس میں آدمی خود اسلام کو اپنے اوپر ڈھالنا شروع کر دیتا ہے۔ آپ اسلام کے پیچھے چلنے کے بجائے اسلام کو اپنے پیچھے چلانا شروع کر دیتا ہے۔ لوگ اصل دینی شاہراہ کو چھوڑ کر، اپنے اپنے ذوق کے تحت مختلف سمتوں میں منحرف ہونے لگتے ہیں۔ کسی کا منطقی مزاج، بغیرضروری قسم کی مذہبی بخشیں ایجاد کرتا ہے اور وہ ان مباحث کا پہلوان بن کر ابھرتا ہے۔ کوئی دنیوی مسائل اور سیاسی جھگڑوں کو اسلامی اصطلاحات میں بیان کرتا ہے اور مان کا علم بردار بن کر مجاہد اسلام کے روپ میں ظاہر ہو تا ہے۔ کوئی جھوٹے قصے کہانیاں گھڑ کر اسلام کا ایک طلسماتی مجموعہ تیار کرتا ہے اور ان کو سننا سن کر عوام کی بھیڑ اپنے گرد جمع کر لیتا ہے۔ کوئی اسلام کا ایک برکتی ایڈیشن وضع کرتا ہے اور بہت سے لوگ اس کو ایک پر اسرار دنیوی نسخہ سمجھ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ کوئی انسان کے بنائے ہوئۓ "ازموں" کے ساتھ اسلام کا نقطہ شامل کر کے ان تمام لوگوں کی قیادت کرلیتا ہے جو ان ازموں (نظاموں) کے قریب میں ہیں اور اسی کے ساتھ اسلام کو بھی ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے۔ کچھ لوگ سادہ معاملہ اس خوش عقیدگی پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ محبوب خدا کی امت ہیں اور قیامت کے دن وہ بہر حال بخش دیئے جائیں گے۔ غرض اصل شاہراہ دین کے دائیں بائیں بہت سی خود ساختہ راہیں نکال لی جاتی ہیں اور لفظی تاویلات یا گھڑے ہوئۓ افسانوں کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ عین دینی ہیں۔ بلکہ یہی وہ دین ہے جس کے لئے تمام انبیاء اس دنیا میں بھیجے گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page